Thursday, 01 September, 2005, 14:18 GMT 19:18 PST
امریکی فوجی حکام نے اس فوجی کمیشن میں تبدیلی کا اعلان کیا ہے جو گوانتا ناموں بے کے قیدیوں کے مقدمے کی سماعت کرے گا۔
اب ان مقدموں کی سماعت امریکہ کی روایتی عدالتوں کی طرح ہی ہوگی جس میں ایک پریزائیڈنگ افسر ہوگا جو ایک موثر جج کا کردار اد کرے گا۔
اہم یا حساس اطلاعات پر بحث کے علاوہ سماعت کے دوران ملزم بھی موجود رہے گا۔
پنٹاگون کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد گوانتا نامو بے میں فوجی کمیشنوں کو جج اور جیوری کے ڈھانچے کی بنیاد پر تشکیل دینا ہے۔
ہر سماعت میں ایک پریزائیڈنگ افسر موجود ہوگا جو ایک مؤثر جج کا کام کرے گا اور قانونی مسائل کا حل نکالے گا۔
سماعت میں کئی پینل ممبر بھی شامل ہونگے جو پریزائیڈنگ افسر کی حمایت کریں گے اور ایک جیوری کا کام بھی کریں گے۔
محکمہ وزارت دفاع نے ہی مقدمے کی سماعت کے دوران ملزم کی موجودگی کے ضابطے بھی طے کئے ہیں۔
ملزم بھی عدالت میں موجود رہے گا صرف ان حالات میں اسے سماعت سے دور رکھا جائے گا جب کسی حساس موضوع بات ہوگی۔
تاہم انسانی حقوق کی تنطیمیں اس نئے ٹرائبیونل سے مطمئن نہیں ہیں۔
مرکز برائے آئینی حقوق نے ان تجاویز کو ایک دکھاوا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قیدیوں کو اب بھی پوری طرح یہ معلوم نہیں ہو پائے گا کہ ان کے خلاف کیا ثبوت پیش کئے جا رہے ہیں اور انہیں اپیل کرنے کا حق بھی حاصل نہیں ہوگا۔