http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 22 August, 2005, 16:00 GMT 21:00 PST

بیٹے کی موت پرماں کا احتجاج

امریکی ریاست ٹیکساس میں چوبیس سالہ فوجی کیسی شیہان کی والدہ سینڈی ماں نے اپنے بیٹے کی عراق میں موت پر بطور احتجاج ایک مقبرے کی طرح کا خیمہ لگایا ہے جس میں انہوں نےاپنے بیٹے کی تصویر نصب کی ہے جس کو پھولوں اور موم بتیوں نے ڈھانکا گیا ہے۔

یہ کیمپ اس جگہ سے محض چند قدم کے فاصلے پر ہے جہاں ان دنوں امریکی صدر گرمیوں کی چھٹیاں گزار رہے ہیں۔

ان کا بیٹا گزشتہ سال عراق جنگ میں ہلاک ہو گیا تھا۔ ان کی والدہ نے یہ کیمپ دوہفتے قبل ہی لگایا ہے۔

اس کیمپ کے باہرصلیبوں کی ایک قطار ہے۔ ان صلیبوں پرعراق میں ہلاک ہونے والے سپاہیوں کے نام درج کیے گئے ہیں۔

یہ کیمپ لگا کر کیسی کی والدہ سینڈی نے امریکی عوام کی توجہ اپنی جانب مبذول کروالی ہے۔ انہوں نے جب یہ کیمپ لگایا تھا توان کے اس کام میں محض چند لوگ شریک تھے۔

ذرائع ابلاغ کی بھرپور کوریج کے بعد ان کے اس احتجاج میں رفتہ رفتہ اور لوگ بھی شامل ہوتےچلےگئے۔

سینڈی صدربش سے بالمشافہ ملاقات کر کے یہ پوچھنا چاہتی ہیں کہ ان کے بیٹے کا کیا گناہ تھا کہ جس کی پاداش میں وہ عراق میں مارا گیا۔

آج سینڈی امریکہ کی خبروں کا موضوع ہیں بلکہ کھانے کی میز سے بڑے ایوانوں تک ان کی ذات ہی وجہ گفتگو بنی ہوئی ہے۔ ان کےاس احتجاج سے عراق جنگ پر بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ خصوصا اس جنگ کی مخالفت کرنے والوں کو تو جیسے زبان مل گئی ہے۔

ان کی یہ احتجاجی مہم اس وقت خطرہ میں پڑگئی جب سینڈی پر فالج کا حملہ ہوا اور انہیں کیلیفورنیا لے جایا گیا۔

لیکن اس مہم میں ان کا ساتھ دینے والوں نے کیمپ چھوڑنے سے انکار کر دیا ہے کیونکہ انہیں یقین ہے کہ سینڈی صحت یاب ہو کر دوبارہ کیمپ میں واپس آئیں گی۔

اس موضوع پر امریکیوں کی آراء تقسیم ہوگئی ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر سینڈی واپس نہیں آئیں تو حکومت پر قائم کیا جانے والا دباؤ دھیما پڑ جائے گا تو دوسری طرف کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اگراب عراق میں کوئی فوجی بم حملوں میں مارا گیا تو یہ امریکی رائے عامہ کے لیے ایندھن کا کام کرے گا۔