Monday, 22 August, 2005, 14:23 GMT 19:23 PST
آسٹریلیا کی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ خواتین کو فوج میں فرنٹ لائن یونٹوں پرتعینات کیا جائےگا۔
لیکن آسڑیلیا کے اسسٹنٹ وزیر دفاع ڈی این کیلی کا کہنا ہے کہ خواتین
براہ راست جنگ میں حصہ لینے والے یونٹوں میں شامل نہیں کیا جائے گا۔
وہ بہت سے جنگی کاموں میں معاون کے طور پر کام کر سکیں گی۔ خواتین
آسٹریلیا کی فوج کا کل تیرہ فیصد حصہ رکھتی ہیں۔
کیلی کے مطابق اس فیصلہ سے خواتین کے لیے فوج میں بہترین ترقی کے مواقع میسر آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پچاس خواتین اس سال دسمبر تک مختلف نشتوں پر فائز کی جائیں گی جن میں سے پندرہ عراق میں جنگی فوج کا حصہ بنیں گی۔
آسٹریلیا کے اس وقت عراق میں سات سو فوجی موجود ہیں جبکہ ہزاروں دوسرے اس خطے میں مختلف خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔
اگلے ماہ افغانستان میں ہونے والے انتخابات کے سلسلے میں ایک سو نوے فوجی دستے وہاں بھیجے جائیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ پڑھی لکھی خواتین مسلح افواج اور پیادہ دستوں، ہیڈکوارٹر اور انتظامی امور سے متعلق نشتوں کے لیے بھی درخواست دی سکتی ہیں۔
اس طرح پہلی مرتبہ خواتین طب ، نقل وحمل اور فوجی انصرام سے متعلق شعبوں کے علاوہ فوج میں براہ راست خدمات سر انجام دیں گی۔
لیکن اپوزیشن لیبر پارٹی کےایک ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فوج میں ہنر مندوں کی شدید کمی واقع ہوگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کی فوج میں شمولیت ایک مستحسن قدم ہے مگر ہنر مندوں کی کمی کا مسئلہ اپنی جگہ موجود ہے۔