Saturday, 20 August, 2005, 01:09 GMT 06:09 PST
فلسطینی رہنما محمود عباس نے غزہ سے اسرائیل انخلا کو فلسطینیوں کے لیے تاریخی خوشی کا دن قراد دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ غرب اردن اور مشرقی یروشلم سے بھی اسرائیلی انخلاء کی شروعات ہے۔
غزہ میں خوشیاں مناتے ہوئے ایک ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے محمود عباس نے کہا کہ اسرائیل کے انخلا کے بعد فلسطینوں کو کئی مزید چیلنجوں کا سامنا ہے۔
غزہ سے یہودی آباکاروں کو نکالنے کے کام کو اسرائیلی سیکورٹی فورسز نے یہودی مقدس دن سبت شروع ہونے کی وجہ سے روک دیا تھا۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہودی آبادیوں کو خالی کرانے کا کام توقع سے زیادہ تیز رفتاری سے کر لیا ہے اور غزہ میں قائم اکیس میں سے چار آبادیوں کو خالی کرانا باقی رہ گیا ہے۔ اب یہ کام اتوار کو دوبارہ شروع کیا جائے گا۔
فوجیوں نے جمعہ کو گدید کی بستی سے روکاوٹیں ہٹا کر اس کو خالی کرالیا گیا۔ انخلا کے خلاف آباکاروں نے ان روکاوٹوں میں آگ بھی لگا رکھی تھی۔
محمود عباس نے فلسطینوں سے اتحاد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلیوں کو نکل جانے دیں اور اس میں کوئی روکاوٹ نہ ڈالیں تاکہ انہیں انخلا میں مزید تاخیر کرنے کا کوئی بہانہ نہ ملے۔
محمود عباس نے کہا کہ غزہ کے ہوائی اڈے کو جلد ہی پروازوں کے لیے کھول دیا جائے گا اور یوں غزہ کا بیرونی دنیا سے فضائی رابط قائم ہو جائے گا۔ فلسطینیوں کو خدشہ ہے کہ اسرائیل اخلاء کے باوجود غزہ کی فضائی اور سمندری حدود پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے گا۔
فلسطینی غزہ کے ہوائی اڈے کو کھولنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
محمود عباس جو غزہ کے ہوائی اڈے پر لوگوں سے خطاب کر رہے تھے کہا کہ جلد ہی وہ اس ہوائی اڈے پر مسافر کی حیثیت سے آئیں گے۔