Saturday, 13 August, 2005, 19:28 GMT 00:28 PST
جرمنی کے چانسلر گرہارڈ شروڈر نے امریکہ کو متنبہ کیا ہے کہ ایران کے خلاف فوج استعمال کرنے کا خیال دل سے نکال دے۔
انہوں نے کہا کہ کوئی بھی نہیں چاہتا کہ ایران جوہری ہتھیار بنائے لیکن اس سے نمٹنے کا طریقہ یہ ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں مذاکرات میں امریکہ اور یورپی یونین سخت رویہ رکھیں۔
چانسلر شروڈر کا بیان امریکی صدر بش کے اس بیان کے ایک دن بعد آیا ہے جس میں صدر بش نے کہا تھا کہ ایران کی طرف سے جوہری سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کے جواب میں امریکہ ایران کے خلاف طاقت استعمال کر سکتا ہے۔
امریکی صدر جارج بش نے ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کو خارج از امکان قرار نہیں دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ ایران کے جوہری مسئلے کے سفارتی حل کے لیے کام رہے تھے لیکن انہیں نہیں لگ رہا کہ اس مسئلے کا کوئی سفارتی حل ڈھونڈا جا سکتا ہے۔
ایک اسرائیلی ٹی وی کو انٹرویو کے دوران ایران کے خلاف ممکنہ طور پر طاقت کے استعمال پر ایک سوال کے جواب میں صدر بش کا کہنا تھا کہ ’تمام راستے کھلے ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ ’ کسی بھی صدر کے لیے طاقت کا استعمال آخری حربہ ہوتا ہے اور ہم نے اپنے ملک کی حفاظت کے لیے ماضی قریب میں طاقت کا استعمال کیا ہے‘۔