Sunday, 07 August, 2005, 14:05 GMT 19:05 PST
انڈونیشیا کی حکومت نے ان تمام قیدیوں کی سزاؤں میں کمی کرنے کا اعلان کیا ہے جو پچھلے سال آنے والے سمندری طوفان سونامی میں جیل ٹوٹنے کے باوجود فرار نہیں ہوئے تھے۔
انڈونیشیا کے صوبے آچے کی جیل میں قید ان قیدیوں نے سونامی کے دوران جیل سے نہ بھاگنے کا فیصلہ کیا تھا۔
انڈونیشیا کےانصاف اور انسانی حقوق کے وزیرحامد اولیاالدین کا کہنا ہے کہ تقریبًا تین سو قیدیوں کی سزاؤ ں میں تخفیف کی جائے گی۔ ان قیدیوں نے
دیانت دار ی کا مظاہرہ کیا اور یہ لوگ صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے
نہیں بھاگے۔
انہوں نے کہا کہ یہ لوگ بھاگ سکتے تھے کیونکہ طوفان جیل کا تمام ریکارڈ بہا کر لے گیا تھااور قیدیوں کی شناخت کا کوئی حساب کتاب جیل حکام کے پاس موجود نہیں تھا۔
انڈونیشیا کے صوبے آچے میں چھبیس دسمبر دوہزار چار کو آنے والے سمندری طوفان سے، جسے سونامی کہا گیا، جیل کےقیدیوں سمیت ایک لاکھ تیس ہزار افراد ہلاک ہوئےتھے۔
اس سانحے میں جیل کی عمارتوں سمیت ہزاروں دوسری عمارتیں بھی تباہ ہوگئی تھیں۔
اولیاالدین نے کہا کہ ان قیدیوں کی سزا میں کمی انڈونیشیا کے یوم آزادی کے موقع پر سترہ اگست کو کی جائے گی۔