Saturday, 06 August, 2005, 20:00 GMT 01:00 PST
ایران نے جوہری پروگرام سے متعلق یورپی یونین کی جانب سے پیش کی جانے والی تجاویز کو مسترد کر دی ہیں اور ایران کے نئے صدر محمود احمدی نژاد نے کہا ہے کہ وہ یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ دوسرے ملک آخر کیوں یہ بات نہیں سمجھ رہے کہ ایرانی قوم کو ڈرایا دھمکایا نہیں جاسکتا۔
ایرانی پارلیمان یا مجلس سے اپنے پہلے خطاب میں بھی انہوں نے اسی جانب اشارہ کیا۔ ان کا کہنا تھا۔
’ہم منطقی اور عالمی قانون کی پاسداری کی بات کررہے ہیں لیکن ہم کبھی بھی غیرقانونی اقدامات کے آگے اور ان طاقتوں کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے جو ہمارے حقوق کچلنا چاہتی ہیں۔ ہم اس اصول پر کبھی سودے بازی نہیں کریں گے۔ ہماری قوم نے ہمیشہ مایوسی اور بیرونی جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے‘۔
اس سے قبل ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان حامد رضا آصفی کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کی تجاویز کا مکمل جواب ہفتے یا اتوار کو دیا جائے گا۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یورپی یونین کی تجاویز ایران کے لیے قابلِ قبول نہیں ہیں کیونکہ ان میں نہ صرف ایران کو یورینیم افزودہ کرنے کا حق نہیں دیا گیا بلکہ پرامن مقاصد کے لیے جوہری پروگرام کو ترقی دینے کا حق بھی مانا نہیں گیا۔
یورپی یونین کی پیش کردہ تجاویز کی امریکہ نے بھی اس بنیاد پر حمایت کی تھی کہ ایران کو یورنیم کی افزودگی ترک کرنے کی عوض ایک سول نیوکلیئر پروگرام چلانے کی اجازت دے دی جائے۔
امریکی موقف میں یہ ایک اہم تبدیلی تھی کیونکہ اب تک امریکہ ایرانی جوہری پروگرام کا سرے سے ہی مخالف رہا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ ایران اس پروگرام کو جوہری ہتھیار بنانے کے لیے پردے کے طور پر استعمال کرے گا۔
ایران نےنومبر 2004 سے معطل جوہری سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی دی ہوئی ہے۔