Saturday, 06 August, 2005, 17:28 GMT 22:28 PST
عائشہ تنظیم
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
چھ اگست 1945 کو بم گرانے والے طیارے کے لوگوں نے کیا محسوس کیا اور سنیچر کو ساٹھ سال بعد اس دن کو کیسے یاد کیا کون ہو گا جو اس بارے میں جاننا نہیں چاہے گا۔
ٹھیک ساٹھ سال پہلے یعنی 6 اگست 1945 کو صبح آٹھ بجے کے قریب جاپان کے شہر ہیروشیما کے آسمان پر ایک امریکی جنگی طیارہ نمودار ہوا اور ٹھیک سوا آٹھ بجے ایک بم گرا کر واپس مڑ گیا۔
طیارے کے عملے میں شامل ایک اہلکار ایٹم بم گرانے کا تجربہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں۔
’ہمیں پتہ تھا کہ بم پھٹنے میں تینتالیس سیکنڈ لگیں گے۔ اور ہم سب گنتی گن رہے تھے۔ بم پھینکنے کے بعد ہم نے جہاز کا رخ موڑا اور وہاں سے بھاگنے کی فکر کی۔ سائنسدانوں نے ہمیں بتا دیا تھا کہ اگر ہم وہاں سے بارہ میل دور ہونگے تو جہاز کو کچھ نہیں ہوگا۔ ہمیں جہاز میں سے دور روشنی کا ایک جھماکہ نظر آیا۔ بالکل ایسے جیسے اندھیرے کمرے میں تصویر اتارتے ہوئے فلیش لائٹ کے جھماکے سے ہوتا ہے۔ کچھ ہی دیر بعد پہلی برقی مقناطیسی لہریں جہاز سے ٹکرائیں اور جہاز کو زور کا جھٹکا لگا ہم جہاز میں ہی اچھل کر نیچے آ گِرے‘۔
ہیرو شیما پر گرایا جانے والے اس بم کا نام ’لٹل بوائے‘ تھا۔ یہ بم دنیا میں استعمال ہونے والا پہلا ایٹم بم تھا جس نے چار ہزار ڈگری سینٹی گریڈ، یعنی سورج کے درجہ حرارت سے بھی ایک ہزار گنا زیادہ گرم لہر پیدا کی، جس نے آنًا فانًا شہر کو جھلسا کر رکھ دیا۔
اس کے نتیجے میں ساڑھے تین لاکھ کی آبادی کے اس شہر کی ایک تہائی لوگ ہلاک ہوئے۔ جن میں سے ہزاروں تو موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جب کہ باقی جلنے یا تابکاری کے اثرات سے ہلاک ہوئے۔ آج تک ہلاکتوں کی صحیح تعداد کا کسی کو علم نہیں ہو سکا۔
![]() ہیرو شیما میں اسی ہزار سے زائد ایسے لوگ اب بھی زندہ ہیں جنہوں نے 60 سال پہلے کا قیامت خیز دن دیکھا تھا |
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان وہاں موجود نہیں تھے لیکن ان کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا جس میں کہا گیا کہ دنیا نے جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بہت کم کام کیا ہے۔
ہیروشیما کے میئر تادا توشی اکیبا نے کہا کہ اس حملے میں ہلاک ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کا صحیح طریقہ صرف یہ ہے کہ دنیا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کر دیا جائے۔
انہوں نے کہا ’چھ اگست، ایٹم بم کی ساٹھویں برسی، اجتماعی فریاد اور افسوس کا لمحہ ہے، ان تین لاکھ لوگوں کی یاد میں جو اس ایٹم بم کے حملے میں ہلاک ہوئے اور وہ جو اس میں زندہ بچ گئے۔ اس دن کی یاد زندگی اور موت کے درمیان کھنچی لکیر مٹا دیتی ہے‘۔
ہیروشیما کے میئر کا کہنا تھا کہ ’یہ دن صرف ہوش میں آنے ہی کا نہیں ایک نئے عزم کا بھی ہے۔ اس نئے عزم جو ہمیں ایٹم بم سے بچ جانے والوں سے ورثے میں ملا اور یہ عزم یہ ہے کہ جوہری ہتھیاروں کا خاتمہ کر دیا جائے اور دنیا میں صحیح معنوں میں امن ہو۔ ہمیں اپنی ذاتی ذمہ داریاں محسوس کرنی ہونگی اور ان پر عمل کرنے کا عزم کرنا ہوگا‘۔
![]() ہیرو شیما کی تقریب میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق پچپن ہزار کے لگ بھگ لوگوں نے شرکت کی |
ان کا کہنا تھا ’جاپان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس پر ایٹم بم گرایا گیا۔ ہیروشیما اور ناگاساکی جیسا سانحہ کبھی نہیں ہونا چاہیے۔ ہم مضبوط عزم کے ساتھ اپنے آئین پر ڈٹے رہیں گے اور جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر قائم رہیں گے‘۔
ہیروشیما میں آج کی تقریبات پانچ سو لوگوں کے ایک امن کے گانے پر ختم ہوئیں۔
امریکہ کا ایٹم بم گرانے کا فیصلہ درست تھا یا غلط، ساٹھ سال گزرنے کے بعد بھی اس پر بحث جاری ہے۔
اس فیصلے کے حق میں دلائل دینے والے کہتے ہیں کہ دوسری جنگ عظیم پانچ سال سے جاری تھی۔ اس میں پہلے ہی لاکھوں لوگ ہلاک ہو چکے تھے اور اسے ختم کرنے کا کوئی طریقہ نظر نہیں آتا تھا۔ اگر ایٹم بم نہ گرایا جاتا تو شاید جنگ سالوں جاری رہتی اور مزید لاکھوں لوگ ہلاک ہوتے۔
![]() امن کے قیام کا عزم ظاہر کرنے کے لیے کبوتر اڑائے گئے |