Friday, 05 August, 2005, 10:29 GMT 15:29 PST
یورپین یونین نے ایران کے سامنے تجاویز کا ایک پیکج رکھا ہے جس کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام پر اٹھنے والے سوالات کا خاتمہ کرنا ہے۔
برطانیہ، جرمنی اور فرانس کے سفیروں نے مشاورت کے بعد ان تجاویز کو حتمی شکل دی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یورپی یونین نےوسطی ایشیا کے راستے یورپ تک گیس اور تیل کی فراہمی کے راستے کی حمایت کی پیشکش کی ہے۔
ان تجاویز کے پیش کیے جانے کے بعد فرانسیسی وزیرِ خارجہ فلپ دوستے بلیزی کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں یہ تجاویز بہت فراخ دلانہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ مجھے امید ہے کہ ایران عقل کی آواز پر کان دھرتے ہوئے مذاکرات کی راہ اختیار کرے گا اور جوہری سرگرمیاں دوبارہ شروع نہیں کرے گا‘۔
انہوں نے کہا کہ’ ہم ایک ایسے’ سول نیوکلیئر پروگرام‘ کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں جو ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ پر مبنی ہو‘۔
تاہم رائٹرز نے ایرانی مذاکرات کار حسین موسوین کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران یورپی یونین کی تجاویز کے باوجود اصفہان کے نزدیک واقع جوہری پلانٹ میں یورنیم کی افزودگی دوبارہ شروع کر دے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’ اگر یہ تجاویز اصفہان میں دوبارہ کام شروع نہ کرنے کی اجازت دیں تب بھی ہم اپنی سرگرمیاں شروع کر دیں گے‘۔
جمعرات کو جوہری پروگرام کے لیے ایران کے اعلٰی ترین مذاکرات کار نے یورپی یونین کے وزرائے خارجہ پر الزام لگایا تھا کہ وہ غلط حقائق بیان کر رہے ہیں اور ایران کو ناقابلِ قبول دھمکیاں دے رہے ہیں۔