Thursday, 28 July, 2005, 09:34 GMT 14:34 PST
لندن میں سات جولائی کے خودکش حملوں کے بعد سے پولیس کو ڈھائی سو ممکنہ خودکش بم حملوں پر فیصلہ کرنا پڑا ہے۔
یہ بات میٹروپولیٹن پولیس کے سربراہ سر اِیئن بلیئر نے برطانیہ کے ٹی وی چینل ’چینل فور‘ کو ایک انٹرویو میں بتائی ہے۔
پولیس کے سربراہ نے کہا کہ ان سکیورٹی الرٹز میں سات ایسے تھے جن پر پولیس نے ایکشن کا فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ ایک بڑا مشکل فیصلہ ہوتا ہے اور پروفیشنل فیصلہ ہوتا ہے۔ مشتبہ افراد خودکش حملہ آور ہو سکتے ہیں اور پولیس کو اُسی لمحے فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے۔‘
پچھلے ہفتے خود کش حملہ آور ہونے کے غلط شبہ میں ایک برازیلین شہری کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے بارے میں پولیس کے سربراہ نے کہا ’یہ ایک خوفناک غلطی تھی لیکن بہرحال پولیس کی اول ترجیح پبلِک کی حفاظت ہے۔‘
برازیل میں دے منیزیز کے خاندان والوں اور دوستوں نے ایک اجتجاجی جلوس نکالا اور مطالبہ کیا کہ ان کے قتل کے ذمہ دار افراد کو گرفتار کیا جائے۔
لیکن برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلئیر نے کہا ہے کہ ان کو اس ہلاکت پر بے حد افسوس ہے لیکن اس مشکل صورتحال میں پولیس کی حمایت ضروری ہے کیونکہ وہ انسداد دہشت گردی کا کام بہت مشکل حالات میں کر رہی ہے۔
گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد سے مشتبہ دہشت گردوں کے خلاف اپنائی جانے والی پولیس کی ’شوٹ ٹو کِل‘ پالیسی کے بارے میں ایک سینیئر پولیس افسر نے کہا ہے کہ اس کا پھر جائزہ لیا جا رہا ہے۔
پولیس کا موقف ہے کہ کسی خودکش بمبار کو روکنے کے لیے اس کے سر میں گولی مارنا ہی سب سے موثر طریقہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ماضی میں خودکش حملوں میں استعمال کیا جانے والا دھماکہ خیز مواد ’ایسیٹون پراوکسائڈ‘ بہت غیر محفوظ ہوتا ہے۔
لیکن پچھلے ہفتے اس بے قصور شہری کی ہلاکت کے بعد پولیس کی حکمت عملی پر بہت تنقید ہوئی ہے۔ انسانی حقوق کے وکیل عمران خان نے کہا کہ اب پولیس کو اپنی پالیسی میں بڑی تبدیلی لانا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس یہ وعدہ نہیں کر رہی کہ اب کبھی ایسی غلطی نہیں ہوگی اور ’عوام کو ایسی پولیس پر کس طرح اعتماد ہو سکے گا جو کہ یہ کہتی ہے کہ اس سے غلطیاں ہو سکتی ہیں۔‘
ادھر لیبر پارٹی کے لارڈ نظیر احمد نے کہا کہ یہ پالیسی اس لیے بھی خطرناک ہے کہ ملک میں بہت سے غیر قانونی تارکین وطن موجود ہیں جو کہ پولیس کے کہنے پر شائد نہ رکیں۔ ’ہمیں ان غیر قانونی افراد کے خلاف کارروائی تو کرنی ہے لیکن پھر بھی ہم ان کو دہشت گرد سمجھ کر مار تو نہیں سکتے۔‘