Sunday, 24 July, 2005, 01:18 GMT 06:18 PST
مصر کے سیاحتی مرکز شرم الشیخ میں ہونے والی کئی دھماکوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 88 ہو چکی ہے جبکہ ایک سو سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ مرنے والوں کی اکثریت مصری ہے۔
دھماکوں کے ایک روز بعد بھی صورتحال واضح نہیں ہے۔ کئی لوگوں کی شناخت نہیں ہو سکی۔ اگرچہ دو مختلف گروہوں نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے مبصرین یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ان کا اصل ہدف کون تھا؟
مصر نے کہا ہے کہ فی الحال کسی کو ذمہ دار ٹھہرانا قبل از وقت ہوگا۔
یہ دھماکے بحیرہ احمر کے اس تفریحی مقام پر ہوئے جو ملکی اور غیر ملکی سیاحوں میں یکساں مقبول ہے۔
دھماکوں کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی ہے اور متاثرین سے اظہار ہمدردی کیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے کہا ہے کہ عام شہریوں کے خلاف اس طرح کے تشدد کا کسی بھی مذہب یا عقیدے کے تحت جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔
مذمت کرنے والوں میں برطانیہ، روس، امریکہ، ایران، شام اور دوسرے ممالک شامل ہیں۔
شام نے کہا ہے کہ وہ ان حملوں کے ذمہ داروں کی گرفتاری میں مصر کی ہر طرح کی مدد کرنے کو تیار ہے۔
اس دوران صدر حسنی مبارک نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اپنے ملک میں دہشت گردی کا خاتمہ کر کے رہیں گے۔
جب کے امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں مصر کو جو بھی مدد درکار ہو گی فراہم کرے گا۔