Sunday, 24 July, 2005, 17:34 GMT 22:34 PST
عراق کے وزیر خارجہ ہوشیار زبیری نے سنی عربوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ عراق کے نئے آئین کی تیاری میں حصہ نہ لے کراپنے مؤقف کی نمائندگی کاموقع ضائع نہ کریں۔
انہوں نےسنی رہنماؤں سے کہا کہ اگر انہوں نے عراق کے نئے آئین کی تیاری میں حصہ نہیں لیا تو خدشہ ہے کہ آئین میں ان کے مؤقف کو خاطر نمائندگی حاصل نہ ہو سکے اور آئین ان کی امیدوں کا صحیح ترجمان ثابت نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ سنی رہنماؤں کی جانب سے آئین کی تیاری میں حصہ نہ لینے کا عمل عراق کے مفادات میں نہیں ہے۔
سنی پارٹی اور کونسل آف نیشنل ڈائیلاگ نے ایک ہفتے قبل اپنے دو ارکان کی ہلاکت کے بعد آئین کی تشکیل میں حصہ لینے کے عمل کو معطل کر دیا تھا۔
اس بارے میں سنی پارٹی اور کونسل آف نیشنل ڈائیلاگ کا یہ مؤقف تھا کہ وہ اس وقت تک اس آئین کی تشکیل کے عمل میں حصہ نہیں لیں گے جب تک کہ حکومت ان کے دو مقتول اراکین کی موت کی تحقیق کے لیے کسی بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن کا اعلان نہیں کرتی۔