Friday, 22 July, 2005, 11:48 GMT 16:48 PST
1600: لندن کے میئر کین لیونگسٹن نے کہا ہے کہ لندن کے باسیوں کو ٹرانسپورٹ کے نظام میں ہی نہیں زندگی کے ہر شعبے میں چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔
1535: پولیس نے جمعرات کے روز تین ٹرینوں اور ایک بس میں بم دھماکے کرنے کے مبینہ ملزموں کی کلوز سرکٹ کیمروں سے لی گئی تصویریں جاری کر دی ہیں۔
1531: لندن پولیس کے سربراہ سر آئن بلیئر نے لندن بم دھماکوں کی تحقیقات کو میٹروپولیٹن پولیس کے سامنے آنے والی سب سے بڑا آپریشنل چیلنچ قرار دیا ہے۔
انہوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سٹاک ویل سٹیشن میں ہلاک ہونے والے شخص کا بم دھماکوں کی تحقیقات سے براہ راست تعلق تھا۔
1425: ہیرو روڈ کے رہائشی نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کی ایک بڑی تعداد علاقے میں موجود ہے اور لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ گھروں کے اندر رہیں۔
1319: لیبر کی رکن پارلیمان کیٹ ہوئے نے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ پولیس نے بہترین عوامی مفاد میں مشتبہ شخص کو گولی ماری ہے۔
1220: ناردرن لائن سروس کو کیننٹن اور مورڈن کے سیکشن کو چھوڑ کر کھول دیا گیا ہے۔ اسی طرح وکٹوریہ لائن ٹرین سروس بھی بحال ہو گئی ہے۔ لیکن دونوں ٹرینیں سٹا ویل سٹیشن پر نہیں رک رہیں۔
1150: سکاٹ لینڈ یارڈ نے تصدیق کی ہے کہ سٹاک ویل سٹیشن پر جس شخص کو گولی ماری گئی تھی وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گیا ہے۔
1135: پولیس نے ایسٹ لندن مسجد کا گھیراؤ یہ کہہ کر ختم کر دیا کہ جس خطرے کے پیش نظر مسجد کے قریب پولیس تعینات کی گئی تھی وہ خطرہ ٹل چکا ہے۔
1130: ایسٹ لندن مسجد کے ٹرسٹیز نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ مسجد کی عمارت میں بم کا خطرہ ہے۔ گیارہ بجے تک پولیس مسجد کی تلاشی لے رہی تھی۔
1100: مسلح پولیس نے ایسٹ لندن مسجد کو گھیرے میں لے لیا ہے اور علاقے کے لوگوں سے کہا ہے کہ گھروں کے اندر رہیں۔
1054: پولیس نے تصدیق کی ہے کہ سٹاک ویل سٹیشن پر ایک شخص کو گولی ماری گئی ہے۔
1054: پولیس نے سٹاک ویل سٹیشن کے گرد دو سو میٹر کے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور وکٹوریہ لائن اور ناردرن لائن ٹرینوں کو معطل کر دیا گیا ہے۔
1030: اطلاعات کے مطابق پولیس نے ایک شخص کو، جو ممکنہ طور پر جمعرات کے مبینہ بمباروں میں سے ایک ہو سکتا ہے، پانچ گولیاں ماری ہیں۔ پولیس اہلکار گلی سے اس شخص کا پیچھا کرتے ہوئے آ رہے تھے۔
1000: گولیوں کی آواز پر ناردرن لائن کو سٹاک ویل سٹیشن پر مسافروں سے خالی کرا لیا گیا ہے اور سٹیشن کو بند کر دیا گیا ہے۔