Wednesday, 20 July, 2005, 00:58 GMT 05:58 PST
صفدر ھمٰدانی
بی بی سی اردو سروس، لندن
دو ہزار سال قبل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ذریعے نازل ہونے والا مذہب عیسائیت اسوقت دنیا کا سب سے بڑا مذہب شمار ہوتا ہے جس کے ماننے والوں کی دنیا بھر میں تعداد دو اعشاریہ دو بلین سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔
برطانیہ میں بھی عیسائیت سب سے بڑا مذہب ہے جس کے مقلدین کی تعداد تیس ملین سے زیادہ ہے جن میں سے فقط کوئی چھ ملین فعال طور پر مذہب پہ کاربند ہیں۔
313 عہد مسیح میں رومن شہنشاہ کنسٹنٹائن نے سلطنت کو مربوط رکھنے کے لیے اسکے ایک صوبے برطانیہ میں عیسائیت کی عبادت کو تسلیم کر لیا اور پھر یہاں عیسائیت کے قیام کے واضع اشارے 597 عہد مسیح میں اسوقت ملتے ہیں جب آگسٹائن، پاپائے روم گریگوری کی طرف سے شاہ ایتھلبرٹ آف کینٹ کے لیے عیسائیت کا پیغام لے کرآ ئےاور یوں چرچ آف انگلینڈ کی بنیاد پڑی۔
چوتھی صدی عیسوی میں برطانیہ میں عیسائیت کے آثار کھلے بندوں نمایاں ہوئے اور پھر دسویں صدی میں یہاں کے لارڈز نے اپنی زمینوں پر چھوٹے چھوٹے چرچ بنانے اور مقامی پادریوں کو عبادت کروانے کی اجازت دی۔
برطانیہ میں عیسائیت کی ابتدا،ترویج اور فروغ کی تاریخ نہایت طویل ہے لیکن اس امر کے شواہد کہیں نہیں ملتے کہ باقاعدہ عبادت کی غرض سے پہلا چرچ کب اور کہاں بنایا گیا تھا۔
آج اکیسویں صدی میں بھی کینٹربری کے اس قدیم ترین چرچ کے حوالے سے انگلینڈ کی عیسائیت میں آرچ بشپ آف کینٹربری کو بہت اہم مقام حاصل ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہاں برطانیہ میں بھی عیسائیت میں مسالک کی بنیاد پڑی۔اولاً یہ تقسیم قدامت پسند اور مغرب پسند عیسائیوں کے درمیان تھی جس کی مزید تقسیم در تقسیم رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کی صورت میں ہوئی اور پھر ان مسالک کے الگ الگ چرچ بننے لگے۔
1150 عیسوی کا عہد وہ زمانہ ہے جب ملک بھر میں متعدد چرچ تعمیر ہوئے جن میں ڈربی شائر میں ایش فیلڈ کا قدیم ترین سینٹ ہیلن پیرش چرچ بھی شامل ہے جسکی تعمیر ایسے مقام پر ہوئی جسے عیسائیت سے قبل پاگان اپنی عبادت کے لیے استعمال کرتے تھے۔
اسی چرچ کے ایک کونے میں آج بھی ایک ہزار سے ڈھائی ہزار سال قبلِ مسیح میں کانسی عہد میں عبادت کے لیے استعمال ہونے والا پتھر موجود ہے۔
برطانیہ کے زیادہ تر قدیم چرچ اسوقت بھی لندن کے مختلف علاقوں میں موجود ہیں جن میں 1185 کا ٹمپل چرچ ہے جوسٹی آف لندن اور سٹی آف ویسٹ منسٹر کے درمیان دریائے ٹیمز پر واقع ہے اور عدلیہ کے ارکان کی سرکاری عبادت گاہ ہے۔
اسکی طرزِ تعمیر گولائی میں بنائے جانے والے چرچوں کے زمرے میں آتی ہے اور اسوقت پورے برطانیہ میں اس طرح کے صرف تین چرچ باقی ہیں۔
برطانیہ بھر میں کُل چرچ کتنے ہیں اس بارے میں اعدادوشمار اس لیے میسر نہیں کہ گزشتہ دوعشروں کے درمیان یہاں عبادت گزاروں کی تعداد میں نمایاں کمی کے باعث متعدد چرچ ختم ہوئے ہیں اور ایسے کئی چرچ مسلمانوں اور ہندؤں نے خرید کر مساجد اور مندروں میں تبدیل کیے ہیں تاہم اس کے باوجود ابھی بھی ملک بھر میں کلیساؤں کی تعداد ہزاروں میں بتائی جاتی ہے۔
انگلینڈ کے علاوہ آئرلینڈ، شمالی آئرلینڈ، ویلز اور سکاٹ لینڈ کے ایک سو پنتیس بڑے بڑے شہروں میں مختلف عیسائی مسالک کے چرچ بڑی تعداد میں موجود ہیں۔عیسائی مسلک میتھوڈسٹ کے ہی ملک بھر میں ڈھائی ہزار سے زیادہ اور لندن میں ڈھائی سو سے زیادہ چرچ ہیں۔
![]() 1734میں بننے والا لندن کامعروف جو بِگ بین اور پارلیمنٹ ہاؤس کے ساتھ واقع ہے |