Monday, 18 July, 2005, 12:20 GMT 17:20 PST
آسٹریلیا میں پولیس ان اطلاعات کی تفتیش کر رہی ہے کہ سڈنی میں کتابوں کی ایک دکان انتہا پسند اسلامی کتب فروخت کر رہی ہے جن میں ایک ایسی اسامہ کی تصدیق شدہ کتاب بھی شامل ہے۔
نیوز ساوتھ ویلز پولیس کمشنر کین مورونی نے کہا ہے کہ پولیس کو پہلے یہ تعین کرنا ہوگا کہ آیا تشدد پر اکسانے کے حوالے سے کوئی جرم سرزد ہوا ہے۔
مذکورہ کتاب خانے کے مالکان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے وکلاء سے مشورے کے بعد اس سلسلے میں ایک بیان جاری کریں گے۔
آسٹریلیا کے مسلمان علماء نے اس طرح کے لٹریچر کی پرزور طریقے سے مذمت کی ہے۔
سڈنی ٹیلی گراف کے مطابق اسلامک بک سٹور میں ’ ڈیفنس آف مسلم لینڈ‘ نامی ایک کتاب کا جس کے سرورق پر اسامہ کی تصدیق موجود ہے ذخیرہ موجود ہے۔
اس کتاب میں خود کش حملوں کے موثر ہونے اور مختلف قسم کے بم حملوں پر بحث کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ کئی اور متنازعہ کتب بھی مبینہ طور پر دکان میں موجود ہیں جن میں ’جائن دی کارواں‘ بھی موجود ہے جس میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ کب تک مسلمان نوجوانوں کو جہاد کرنے سے روکا جا سکتا ہے۔
ٹیلی گراف نے الزام عائد کیا ہے کہ کئی دوسری کتاب کی دکانوں پر بھی اس طرح کی کتب فروخت ہو رہی ہیں۔
پولیس کمشنر نے کہا کہ اس سلسلے میں قانونی مشورہ درکار ہے کہ آیا ان کتابوں کے لکھنے والے، ناشرین اور فروخت کرنے والوں نے واقعی کسی جرم کا ارتکاب کیا ہے۔
انہوں نے کہا لوگوں کو تشدد پر اکسانا واضح طور پر ایک جرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذاتی طور پر اس لٹریچر کو کم از کم اشتعال انگیز سمجھتے ہیں۔