Thursday, 14 July, 2005, 04:00 GMT 09:00 PST
برطانیہ کے وزیر اعظم ٹونی بلئیر نے اسلامی انتہا پسندی سے نمٹیں کے لیے دو طرفہ حکمت عملی کا اعلان کیا ہے۔
برطانوی پولیس کے اس انکشاف کے بعد کہ چار مشتبہ بمباروں میں سے تین برطانوی شہری ہیں، ٹونی بلیئر نے پارلیمنٹ میں اپنے خطاب کے دوران کہا کہ برطانیہ میں رہنے والی مسلمان برادری کے رہنماؤں سے فوری طور پر گفت و شنید کی جائے گی۔
برطانوی وزیر اعظم نے کہا اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے اور نفرت پھیلانے والوں کے خلاف زیادہ سخت قانون بنائے جائیں گے۔
ادھر یورپی یونین کے ممالک کے داخلہ کے وزراء نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اخیتار کے طریقوں پر غور شروع کر دیا ہے۔
وزارت داخلہ کے وزراء ایسی تجویزوں پر بھی غور کر رہے ہیں جن کے مطابق دہشت گردی ملوث لوگوں کو آسانی سے ایک ملک سے دوسرے ملک کے حوالے کیا جا سکے۔