Tuesday, 12 July, 2005, 11:42 GMT 16:42 PST
برطانوی پولیس نے گزشتہ جمعرات کو لندن بم دھماکوں میں ملوث افراد کی تلاش میں شمالی انگلنڈ میں پانچ مکانوں پر چھاپے مارے ہیں۔
لندن پولیس کے سربراہ سرائین بلیئر نے کہا ہے کہ یارکشائر میں مارے جانے والے ان چھاپوں کا تعلق براہ راست لندن میں ہونے والے دہشت گردی کی وارداتوں
سے ہے۔
پولیس نے کہا ہے کہ یہ چھاپے لندن کی زیر زمین ٹرینوں اور بس میں ہونے والے چار دھماکے کے بعد جمع کئے جانے والے شواہد کی روشنی میں مارے گئے ہیں۔
ان دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو اور لاشوں کے برآمد کیے جانے کے بعد باؤن ہوگئی ہے۔
دریں اثناء ان دھماکوں کے بعد کئی جگہوں پر مساجد اور مسلمانوں پر حملوں کے واقعات کی اطلاعات ملی ہیں۔ کئی جگہوں پر سکھوں کے گردواروں کو بھی حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
برطانوی اخبار ’انڈپنڈنٹ‘ کے مطابق نوٹنگھم میں پولیس ایک اڑتالیس سالہ پاکستانی کی موت کی تحقیقات کر رہی ہے اور خدشہ ہے کہ یہ قتل بھی لندن میں دھماکوں کے بعد مسلمانوں پر ہونے والے حملوں کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
اس کے علاوہ بریک ہیڈ اور مشرقی لندن کے علاقے مائل اینڈ کے علاقے میں مساجد پر پیٹرول بم پھینکے کے واقعات پیش آئے ہیں۔