Wednesday, 13 July, 2005, 01:15 GMT 06:15 PST
صفدر ھمٰدانی
بی بی سی اردو سروس لندن
ساڑھے تین ہزار سال قدیم یہودی مذہب کے پیروکاروں کی اس وقت دنیا بھر میں تعداد بارہ ملین سے زیادہ ہے جبکہ یہ عجب حقیقت ہے کہ اسرائیل سے زیادہ تعداد میں یہودی یعنی باؤن لاکھ اسی ہزار امریکہ میں مقیم ہیں۔
کثیر نسلی، کثیر ثقافتی اور کثیر مذہبی برطانیہ میں اسوقت یہودیوں کی تعداد تین لاکھ کے قریب ہے جن کا بڑا حصہ یعنی چودہ اعشاریہ آٹھ فیصدلندن میں بارنیٹ اور گولڈرز گرین کے علاقوں میں مقیم ہے۔
برطانیہ میں 1066 سے قبل یہودیوں کی موجودگی کے کوئی شواہد نہیں ملتے تاہم تارکین وطن کی قومی دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ 1066 کے اواخر میں فرانس کے فاتح ولیم شمالی فرانس اور نارمنڈی سے یہودیوں کو لیکر لندن
آ ئے تھے اور پھر بارھویں صدی عیسوی میں برطانیہ میں یہودیوں کے تحفظ کا پہلا منشور منظور کیا گیا تھا۔
سترھویں صدی کے آغاز تک یہودیوں کو برطانیہ میں کھُلے بندوں اپنے مذہب کے پرچار کی اجازت نہیں تھی اور خفیہ طور پر یہودیت کے پرچار کی پاداش میں 1609 میں برطانوی شاہ جیمز اول نے لندن میں مقیم پرتگالی یہودی تاجروں کو مُلک سے نکل جانے کا حُکم دیا دیا تھا۔ 1656 کے کرامویل عہد میں پہلی مرتبہ یہاں یہودیوں کو اپنے عبادت خانے سینیگاگ یعنی معبد بنانے کی اجازت ملی۔
تارکینِ وطن کے ریکارڈ کے مطابق 1800 تک برطانیہ میں یہودیوں کی تعداد بیس اور پچیس ہزار کے درمیان تھی جو انیسویں صدی کے وسط تک پینتیس اور چالیس ہزار تک جا پہنچی اور پھر بیسویں صدی میں خاص طور پر عالمی جنگوں کے بعد اس تعداد میں مزید اضافہ ہوا۔
چونکہ یہودیوں کی سب سے زیادہ تعداد لندن میں ہے اسی لیے انکے عبادت خانے سینیگاگ بھی تعداد کے اعتبار سے لندن میں ہی زیادہ ہیں۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق برطانیہ بھر میں یہودیوں کے ایک سو پچاس سے زیادہ سینیگاگ ہیں جن میں سے یہودی فیڈریشن کے تیس، ریفام سینیگاگ پچاس، سیفاردی سینیگاگ بیس سے زائد اور مستوری سینیگاگ بیس کے قریب ہیں۔
اسکی تعمیر 1699 میں شروع ہوئی تھی اور اُس زمانے میں اس پر تین ہزار پاؤنڈ لاگت آئی تھی۔ اس سینیگاگ کو زیادہ تر سپین اور پرتگال کے یہودی استعمال کرتے ہیں اور اس میں توریت کے نہایت قدیم نسخے بھی موجود ہیں۔ اسکی اندرونی آرائش اور نشستیں آج بھی کافی حد تک اپنی ابتدائی حالت میں موجود اور زیرِ استعمال ہیں۔
اس سینیگاگ میں دس ستون اسرائیل کے دس قبائل کی نشانی ہیں جبکہ دس شمع دان حضرت موسیٰ کی شریعت کے دس معروف قوانین کے غماز ہیں۔
1831 اور 1833 کے درمیان لندن میں رمز گیٹ سینیگاگ بنایا گیا تھا جو اب فعال عبادت گاہ نہیں بلکہ یہودی ورثے کی محفوظ عمارت ہے۔ اسی طرح 1854میں یہودی عبادت گاہوں کی مرکزی کمیٹی نے لندن میں پورٹ لینڈ سٹریٹ میں سینیگاگ بنانے کے لیے ایک بڑا گودام چالیس سال کے پٹے پر لیا تھا۔
1855 میں برانچ سینیگاگ کے نام سے اسکی تعمیر شروع ہوئی تھی اور تکمیل پر زیریں منزل میں 212 نشستیں اور گیلری میں 144 نشستیں تھیں۔ لیز یعنی پٹے کے خاتمے پر اس سینیگاگ کو نئے سرے سے بیس واٹر میں بنایا گیا۔
برطانیہ میں رہنے والے یہودیوں کے قومی ورثے میں 1762 میں ڈیون میں تعمیر ہونے والا پلےمتھ سینیگاگ بھی شامل ہے۔