Monday, 11 July, 2005, 07:15 GMT 12:15 PST
بوسنیا کے شہر سریبرینتزا میں سرب فوج کے ہاتھوں ہزاروں مسلمانوں کے قتلِ عام کی دسویں برسی منائی جا رہی ہے اور اس موقع پر عالمی رہنماؤں نے افسوس کا اظہار کیا ہے کہ وہ اس وقت اس قتل عام کو روکنے کے لئے کچھ نہ کرسکے۔
انیس سو پچانوے میں سرب فوج نے آٹھ ہزار بوسنیائی مرد اور بچوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ یہ دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ میں سب سے گھناؤنا قتلِ عام تھا۔
پیر کے روز اس واقعے کے دس سال پورے ہونےکے موقع پر ایک تقریب میں برطانیہ کے وزیر خارجہ جیک سٹرا نے کہا کہ دنیا اس قتل عام کو روکنے میں ناکامی پر شرمندہ ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے انچارج خاوئیے سولانا نے کہا کہ یہ پوری دنیا کی ایک مشترکہ ناکامی تھی۔
اسی دوران نئی شناخت ہونے والی 160 لاشوں کی باقیات کو بھی دفنایا جائے گا۔
گزشتہ ہفتے اس جگہ پر دو بم ملنے کے بعد سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ بعد میں ان دو بموں کو ناکارہ بنا دیا گیا۔ علاقے میں پندرہ سو سے زائد پولیس والے تعینات کر دیے گئے ہیں۔
![]() سریبرینتزا میں قبرستان میں لگائی گئی ایک یادگاری تختی |
صدر تاجک نے کہا ہے کہ وہ ’بے گناہوں کے لیے سر جھکائیں گے‘۔
بوسنیائی سرب لیڈر رادوان کراجک اور ان کی آرمی کے کمانڈر رادکو ملاجک کو اس قتلِ عام کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ دونوں ہی ابھی تک مفرور ہیں۔