Monday, 27 June, 2005, 02:06 GMT 07:06 PST
امریکہ میں قائم انسانی حقوق سے متعلق دو تنظیموں نے ستمبر گیارہ کے واقعات کے بعد امریکی محکمہ انصاف پر بنیادی انسانی اور آئینی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ایک وفاقی قانون کا غلط استعمال کرتے ہوئے دہشت گردی کے شبہ میں بہت سے مسلمانوں کو گرفتار کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔
اس رپورٹ میں انہوں نے ستر ایسے افراد کی نشاندھی کی ہے جنہیں دہشت گردی کے شبہ میں شہادت کے بارے میں ایک وفاقی قانون کا غلط طور پر استعمال کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ انہیں نہیں معلوم کے ان ستر کے علاوہ کتنے ایسے افراد ہوں گے جنہیں اس قانون کے تحت گرفتار کیا گیا۔
ہیومن رائٹس واچ اور امریکن سول لبرٹیز یونین نامی ان تنظیموں کی مشترکہ رپورٹ میں کہا گیا کہ ستمبر گیارہ کے حملوں کے بعد دہشت گردی کے شبہ میں گرفتار کیے گیے ایک کے سواء تمام مسلمان تھے۔
اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکام کو ان لوگوں پر شبہ تھا کہ وہ دہشت گردی میں ملوث ہیں مگر انہیں شہادت کے طور پر حراست میں رکھا گیا۔
یہ کارروائی ایک ایسے وفاقی قانون کے تحت کی گئی جس میں کسی ایسے شخص کو جسے کسی جرم کے بارے میں علم ہو اس خدشے کے پیش نظر حراست میں رکھا جا سکتا ہے کہ اگر اس رہا کیا گیا تو وہ غائب ہو جائے گا۔
ان میں سے نصف کو کبھی گواہی دینے کے لیے پیش ہی نہیں کیا گیا۔ ان میں صرف سات پر دہشت گردی سے متعلق جرائم میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا۔
ان میں تیرہ افراد ایسے بھی ہیں جن سے امریکی حکومت نے انہیں بلا وجہ حراست میں رکھے جانے پر معذرت کی۔
اس رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکی محکمہ انصاف نے ان لوگوں کو ان کے قانونی حقوق سے بھی محروم رکھا اور بہت سوں کو یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ انہیں کیوں گرفتار کیا گیا ہے، ان کو وکیلوں سے ملنے نہیں دیا گیا اور انہیں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ ان کے خلاف کیا شواہد موجود ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ان سب لوگوں کو بندوق کی نوک پر گرفتار کیا گیا ان کو قید تنہائی میں رکھا گیا اور ان کے ساتھ نامناسب سلوک کیا گیا۔
ستمبر گیارہ کے حملوں کے بعد گرفتار کیے جانے والے لوگوں میں شامل پاکستان کے ضلع گجرات سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر تجمل حسین بھٹی بھی شامل تھے۔
ڈاکٹر تجمل حسین بھٹی ماہر نفسیات ہیں اور انیس سو اکسٹھ سے امریکہ میں مقیم ہیں۔ انہوں نے بی بی سی اردو سروس سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بھی دہشت گردی کے شبہ میں گرفتار کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں ایف بی آئی اور چند اور سیکیورٹی ایجنسیوں کے اہلکاروں نے گرفتار کیا۔
ڈاکٹر تجمل نے کہا کہ ان پر شبہ کی بنیاد چند تصاویر، ان کے کمپیوٹر میں نیویارک ٹائمز کا ’ڈرٹی بم‘ سے متعلق ایک مضمون ، ان کی نیو کلیئر میڈسن میں تعلیم اور ان کے ایک سکول کے دوست کا پاکستان کے جوہری پروگرام سے منسلک ہونا بنے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی ایک تصویر اس وقت لی گئی تھی جب وہ اپنی چھت پر بی بی سی ورلڈ سروس کی شارٹ وویز پر نشریات سننے کے لیے اینٹینہ کی تار لگا رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ رہائی کے بعد انہیں ایسی کوئی دستاویز نہیں دی گئی جس سے وہ اپنی بے گناہی ثابت کر سکیں۔
ستمبر گیارہ کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امریکہ میں رہنے میں مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں انہیں شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے حتیٰ کے بعض دوست بھی ان پر شک کرتے ہیں۔