Monday, 20 June, 2005, 17:05 GMT 22:05 PST
رفعت اللہ اورکزئی
پشاور
افغان حکومت کے ایک اعلی افسر نے انکشاف کیا ہے کہ افغانستان میں امریکی سفیر زلمے خلیل زاد کو قتل کرنے کے الزام میں پکڑے جانے والے تین پاکستانی باشندوں کو طالبان نے بھیجا تھا۔
افغان حکومت کے اعلی افسر جس نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط بتایا کہ گرفتار ہونے والے تین پاکستانی در اصل کابل جلال آباد روڈ پر حملے کے لیے بھیجے گئے تھے لیکن جب ان کو پتہ چلا کہ امریکی سفیر کسی روڈ کا افتتاح کرنے والے ہیں ، تو انہوں نے سفیر کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی شروع کر دی۔
افغان حکومت کے افسر نے کہا ہے کہ سکیورٹی اہلکاروں نے تین پاکستانیوں کو اتوار کے روز ضلع کاراگئی کے گاؤں مینڈرور سے گرفتار کیا تھا۔
گرفتار ہونے والوں کے قبضے سے دو کلاشنکوف رائفلیں اور ایک راکٹ لانچر برآمد ہوا۔
افغان حکومت کے اہلکار نے سکیورٹی اہلکاروں کو بتایا ہے کہ ان کو طالبان کمانڈر ملا وزیر نے افغانستان میں کارروائیوں کے بھیجا تھا۔انہوں نے حکام کویہ بھی بتایا کہ اس سے پہلے خوست کے علاقے میں کئی کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں۔
پکڑے جانے والے پاکستانی عبد الحلیم اور سریر خان کا تعلق پشاور کے علاقے بشیر آباد سے ہے جبکہ زاہد سعید کا تعلق صوبہ سرحد کے ضلعے صوابی سے ہے۔