Friday, 17 June, 2005, 03:23 GMT 08:23 PST
ایرانی صدارتی انتخاب کیلیے پولنگ شروع ہو گئی ہے اور صدر بش نے انتخابات کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ان صدارتی انتخابات میں صف اول کے تین امیدواروں ہاشمی رفسنجانی، مصطفیٰ معین اور ڈاکٹر علی لاریجانی میں کڑے مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔
اس کے بعد سو کے قریب امیدوار باقی تھے جن میں سے جمعرات تک صدارت کے آٹھ امیدوار ان انتخابات میں حصہ لے رہے تھے جن میں اکبر ہاشمی رفسنجانی، مصطفیٰ معین، ڈاکٹر علی لاریجانی، محمود احمد نژار، مہدی کروبی، محسن محمد علی زادہ، محسن رضائی اور محمد باقر قالینباف کے نام شامل ہیں۔
جمعرات کو بتایا گیا تھا کہ پاسدارانِ انقلاب کے سابق سربراہ محسن رضائی نے اپنا نام واپس لے لیا تھا۔ جس کے بعد اب سات امیدوار میدان میں ہیں۔ معین رضائی کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنا نام مذہبی قیادت کی ہدایت پر واپس لیا ہے تا کہ مذہبی ووٹ تقسیم نہ ہوں۔
![]() مصطفیٰ معین |
تیسرے اہم امیدوار ڈاکٹر علی لاریجانی ہیں جو سابق براڈکاسٹر ہیں اور جنہیں رجعت پسندوں کا امیدوار تصور کیا جاتا ہے۔
کہا جا رہا ہے کہ اگر انتحابات کے پہلے مرحلے میں کسی امیدوار نے کل ڈالے گئے ووٹوں کے اکاون فیصد سے زائد ووٹ نہ لیے تو انتخابات کا دوسرا مرحلہ بھی ہو گا جس میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہو گا۔
![]() ڈاکٹر علی لاریجانی |
صدر بش نے کہا ہے کہ ایران میں اقتدار چند ایسے غیر منتخب افراد کے ہاتھ میں ہے جو جمہوریت کے بنیادی اصولوں کو نظر انداز کر رہے ہیں۔