Thursday, 16 June, 2005, 02:10 GMT 07:10 PST
ایران نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کو یہ بتانے میں ناکام رہا کہ اس نے سات برس پہلے تک پلوٹونیم افزودہ کرنے کے تجربات کیے تھے اور یوں اس نے عالمی ادارے سے غلط بیانی کی تھی۔
بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ بیمفرڈ کے مطابق توقع ہے کہ آج جوہری توانائی کا عالمی ادارہ اس بات کی تصدیق کردے گا کہ ایران نے سن انیس سو اٹھانوے تک افزودہ پلوٹونیم کے تجربات کیے تھے جو جوہری ہتھیاروں کا اہم ترین عنصر ہے۔
اس سے پہلے ایران نے کہا تھا کہ اس نے سن ترانوے کے بعد سے ایسے کوئی تجربات نہیں کیے۔
ایرانی اس اعتراف کو کوئی بڑا انکشاف قرار نہیں دے رہے لیکن یقیناً امریکہ سمیت کئی حلقوں میں اس بات کو ایسے نہیں لیا جائے گا۔
اس تازہ اعتراف کے بعد بھی جوہری توانائی کا عالمی ادارہ ایرانی انکشاف کو جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کے ثبوت کے طور پر نہیں پیش کر رہا لیکن شکوک کے شکار سفارتکار بہرحال یہ بات کہیں گے کہ ایران نے ایک بار پھر جوہری معاملات پر اپنا موقف بدل لیا ہے۔
ایران کے سابق صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی کا کہنا ہے کہ ان کا ملک اپنا ایٹمی پروگرام ختم نہیں کرے گا تاہم ان کا اس کے ساتھ یہ بھی اصرار ہے کہ ان کا ملک ایٹمی بم نہیں بنانا چاہتا۔