Thursday, 16 June, 2005, 10:06 GMT 15:06 PST
پولیس نے شمالی کمبوڈیا میں ایک بین الاقوامی اسکول کے محاصرے کے بحران کو ختم کر دیا ہے جہاں بندوق برداروں نے درجنوں بچوں کو یرغمال بنا رکھا تھا۔
عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کارروائی میں کم از کم چار بندوق برداروں کو پکڑ لیا گیا لیکن سکول میں ایک لڑکا ہلاک ہو گئی۔
دو سے چھ سال کی عمر کے باقی تمام بچے اب آزاد کرا لیے گئے ہیں۔ ان میں برطانیہ، امریکہ اور ایشائی ممالک کے بچے تھے۔
بتایا جاتا ہے کہ اغوا کاروں نے اسلحہ ،ایک کار اور ایک ہزار ڈالر کا مطالبہ کیا تھا۔
سیم ریپ میں برطانوی اعزازی کونسلر کارل بلاچ نے بی بی سی کو بتایا ان کے خیال میں چار بندوق برداروں میں سے تین ہلاک ہو گئے ہیں اور چوتھا پولیس کی حراست میں ہے
اغوا کی اس واردات کے پیچھے کیا مقصد تھا یہ ابھی واضح نہیں ہے۔
کمبوڈیا میں دہشت گرد سرگرمیاں عام نہیں ہیں۔
سیم ریپ قدیمی عمارتوں کی وجہ سےسیاحوں میں خاصا مقبول ہے اور کمبوڈیا کے باقی علاقوں کے مقابلے بہت خوشحال بھی ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ کم از کم چار مسلح افراد نے ایک پرائیویٹ سکول میں بچوں اور کچھ اساتذہ کو یرغمال بنا لیا تھا۔
نامہ نگاروں کے مطابق اس سکول میں زیادہ تر غیرملکی بچے پڑھتے ہیں۔