Wednesday, 15 June, 2005, 02:56 GMT 07:56 PST
امریکی وزیردفاع ڈونلڈ رمسفلڈ نے اعتراف کیا ہے کہ دنیا میں اکثر جگہوں پر امریکی ساکھ بری طرح خراب ہے اور اس کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔
بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی وزیردفاع نے اس کی توجیہہ یہ پیش کی کہ دنیا میں جو بھی طاقتور ہوتا ہے ، لوگ اس کو گرانا چاہتے ہیں اور یہ بات ہمیشہ ہی رہے گی۔
تاہم انہوں نے مزاحمت کی موجودہ صورتحال کے لیے شام اور ایران کو مورد الزام ٹھہرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’شورش کے لیے شام ذمہ دار ہے جبکہ وہاں رونما ہونے والے واقعات میں ایران کا کردار ہے‘۔
امریکی وزیردفاع نے گوانتانامو کے امریکی فوجی قید خانے کے بارے کہا
’اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ آج بدقسمتی سےگوانتانامو کے مخصوص معنی بن گئے ہیں۔ اس قید خانے کے قیام پر دس کروڑ ڈالر خرچ ہوئے تھے اور اب تین برس سے اس کو چلانے پر چوبیس کروڑ ڈالر خرچ ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ’اس کے قیام کے وقت خود میں نے اس کو کمترین برا انتخاب قرار دیا تھا۔ صدر یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ ہم معاملات کو بہتر بنانے کے راستے ڈھونڈتے رہیں گے۔ تاہم یہ دوسروں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ کوئی بہتر متبادل راستہ پیش کریں‘۔
امریکی وزیردفاع نے بتایا کہ ایران اور شمالی کوریا کے ساتھ جوہری تنازعے پر فی الوقت امریکی ترجیح سفارتی حل کو ہی حاصل ہے لیکن طاقت کے استعمال کو قطعی خارج ازامکان قرار نہ دینے کی صدر بش کی بات بھی درست پالیسی ہے۔