Monday, 13 June, 2005, 03:07 GMT 08:07 PST
لبنان کے عام انتخابات کے تیسرے مرحلے میں کل ووٹنگ مکمل ہوگئی اور حزب اختلاف کے ایک سینئر رہنما ولید جنبلاط کا کہنا ہے کہ ابتدائی اندازوں کے مطابق شام مخالف امیدواروں کو شکست کا سامنا ہے۔
گزشتہ تیس سال میں یہ پہلے انتخابات ہیں جو شامی افواج کی موجودگی کے بغیر ہوئے ہیں۔ تیسرے یعنی اس مرحلے کے انتخابات کی تکمیل کے بعد تقریباً نصف نشستوں کے انتخابات مکمل ہوجائیں گے۔
’خانہ جنگی کے بعد پہلی مرتبہ انتخابات میں عیسائیوں اور مسلمانوں کا اتحاد ایک طرف ہے اور اس کا مخالف اتحاد بھی عیسائیوں اور مسلمانوں پر ہی مشتمل ہے جو میرے خیال میں لبنان کے لیے ایک بڑی صحت مند بات ہے۔ اس کے لیے ہمیں لبنان سے شامی افواج کی واپسی کا شکرگزار ہونا چاہیے‘۔
ولید جنبلاط نے جو اہم شام مخالف رہنماتصورکیے جاتے ہیں، تسلیم کرلیا ہے کہ انہیں اور ان کے اتحادیوں کو انتخابات میں شکست کا سامنا ہے۔ سرکاری نتائج پیر کی دوپہر تک آنے کی توقع ہے لیکن سابق جنرل مائیکل عون کے حامیوں نے اپنی کامیابی کا جشن منانا شروع کردیا ہے۔
اس مرحلے میں اٹھاون نشستوں پر انتخابات ہوئے ہیں اور اس میں ووٹ بھی دوسرے دومرحلوں کے مقابلے میں زیادہ ڈالے گئے۔
کوہ لبنان کے علاقے میں شام مخالف امیدوار ایک دوسرے سے نبردآزما رہے جبکہ مشرقی وادی بیکہ میں بیشتر مقابلہ شام نواز اور شام مخالف امیدواروں کے درمیان ہوا۔
![]() حزب اختلاف کے رہنما ولید جنبلاط جنہوں نے اعتراف کیا ہے کہ ان کے شام مخالف اتحاد کو شکست ہو رہی ہے |
انتخابات کا چوتھا مرحلہ آئندہ اتوار کو ہوگا جس میں شمالی لبنان کی نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے جائیں گے۔