Monday, 13 June, 2005, 03:58 GMT 08:58 PST
ایران میں اتوار کو مختلف مقامات پر بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد تازہ ترین اطلاعت کے مطابق اب دس ہوگئی ہے اور ایک ایرانی اہلکار نے شک ظاہر کیا ہے کہ ان دھماکوں میں امریکہ اورشاید برطانیہ کا بھی ہاتھ ہو سکتا ہے۔
اس اہلکار کا کہنا ہے کہ ان دھماکوں کا ایران کے صدارتی انتخابات سے قبل ہونا اہم ہے۔
حکام کے مطابق دارالحکومت تہران میں کئی بم نصب کئے گئے تھے لیکن ان میں سے ایک پھٹا باقی ناکارہ بنا دیے گئے۔
اب تک یہ واضح نہیں کہ حملے کا ذمہ دار کون ہے تاہم تہران میں ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے اور اہواز میں کئی کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لے لیا گیا ہے۔
اس سے پہلے ملنے والی اطلاعات میں ایرانی حکام نے دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کی تصدیق نہیں کی تھی اور کہا جا رہا تھا کہ دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد زیادہ ہو سکتی ہے۔
1988 میں عراق کے ساتھ جنگ بندی کے بعد سے ایران میں بم دھماکے کبھی کبھار ہی ہوئے ہیں۔
عراق کی سرحد کے قریب واقع اھواز کا علاقہ اس سال اپریل سے تناؤ کا شکار رہا ہے۔ عربی اور فارسی زبان بولنے والے لوگوں کے درمیان تناؤ کے باعث مبینہ طور پر کئی افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ایک بم گورنر جنرل کے ہیڈ کوارٹر کے باہر پھٹا جبکہ اگلے دو گھنٹے کے دوران مزید تین بم قریب ہی واقع سرکاری دفاتر کے باہر پھٹے۔
خوزستان کے نائب گورنر غلام رضا شریعتی کے مطابق مرنے والوں میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔