Saturday, 04 June, 2005, 07:44 GMT 12:44 PST
لندن میں امدادی کارکنوں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ سینکڑوں افریقی بچوں پر آسیب زدہ ہونے کا الزام لگا کر ان کو علاج کے لیے افریقہ بھجوایا گیا ہے جہاں ان پر تشدد کیا جاتا ہے جس سے کئی بچے ہلاک ہو گئے ہیں۔
لندن میں جمعہ کو ایک عدالت نے دو عورتوں سیمت تین افریقی نژاد لوگوں کو ایک آٹھ سالہ یتیم افریقی لڑکی کو تشدد کا نشانہ بنانے کے الزام میں سزا کا اعلان کیا۔ عدالت سے سزا پانے والوں کا تعلق وسط افریقی ملک انگولا سے ہے۔
امدادی کارکنوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ کوئی اکلوتا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس طرح کے واقعات پہلے بھی ہوتے رہتے ہیں۔
انہوں نے بتایا دو سال پہلے دو بچوں کو جن کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ وہ آسیب زدہ ہیں علاج کے لیے انگولا لے جایا گیا جہاں ان کو مار دیا گیا تھا۔
لندن کی عدالت کو بتایا گیا کہ جس آٹھ سالہ یتیم لڑکی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے اس کو اس کی رشتہ دار خاتون اسے انگولا سے برطانیہ لائی تھیں۔ لڑکی کی رشتہ دار خاتون نے اسے اس وقت تشدد کانشانہ بنانا شروع کر دیا جب ایک لڑکے نے اس پر جادو ٹونے کرنے کا الزام لگایا۔
اس افریقی عورت نے کچھ اور لوگوں کی مدد سے اس لڑکی کے جسم سے آسیب کو نکالنے کے لیے چاقو سے اس یتیم لڑکی کے جسم کے کئی حصوں میں کٹ لگائے اور اس کے آنکھوں میں مرچیں ڈال دیں۔
لڑکی نے پولیس والوں کو بتایا کہ ایک دن اس کو باورچی خانے میں بند کر دیا گیا اور کہا کہ آج اسے مار دیا جائے گا۔
لڑکی نے پولیس کو مزید بتایا کہ ایک دن اس کو بوری میں بند کر دیا گیا اور اس کو یقین ہو گیا تھا کہ اس کو کسی دریا میں بہا دیا جائے گا۔
امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ افریقہ میں آسیب اور سایہ کے مسائل کی وجہ مرکزی گرجے سے علیحدہ ہو جانے والے گرجوں میں قدیم افریقی عقائد اور مسیحی تعلیمات کا امتزاج ہے۔