Saturday, 28 May, 2005, 14:04 GMT 19:04 PST
نیپال کے بادشاہ گئندرا نے ملک پر اپنے چار ماہ سےجاری قبضے کا دفاع کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں سے دہشت گردی کے خلاف اپنی حکومت کا ساتھ دینے کی درخواست کی ہے۔
انہوں نے کہا کے وہ ملک میں انتخابات کروانے کے اپنے وعدہ پر قائم ہیں۔ نیپال میں گذشتہ تین سال سےانتخابات نہیں ہو ئے ہیں۔
جمعہ کو ملک کی سب سے قدیم یو نیورسٹی میں منعقد ایک تقریب میں خطاب کے دوران شاہ گئندرا نے جواس یو نیورسٹی کے چانسلر بھی ہیں، یکم فروری کو ملک پر اپنے قبضے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ قدم دراصل جمہوریت کو دہشت گردی کے حوالے سےلاحق خطرہ سے بچانے کےلیے اُٹھایا گیا تھا۔ انہوں نےیہ بھی دعوی کیا کہ ملک وقت تباہی کے دہانے پر تھا۔
بادشاہ گئندرا نے کہا کہ پچھلے تین ماہ کے دوران مثبت نتائج حاصل ہوئےہیں۔
اورملک اور لوگوں کے بہتر مفاد کے لیے ان کے دروازے مذاکرات کے لیے ہمیشہ کھلے ہیں۔
لیکن انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کی جا نب سے جمہوریت اور لوگوں کے بنیادی حقوق کی بحالی سے متعلق اپیل کے بارے میں کوئی بات کرنے سےگریز
کیا۔
جمعہ کو ہزاروں لوگوں نے دارلحکومت کی گلیوں میں ایوانِ نمائندگان کی
بحالی اور تمام جماعتوں پر مشتمل ایک نئی حکومت کے قیام کے لیے
مظاہرہ کیا۔
لوگ شاہی قبضے کے نتیجے میں گرفتار ہونے والے سیاسی رہنماؤں کی آزادی کا مطالبہ بھی کرر ہے تھے۔
اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کی جانب سے یہ دھمکی بھی دی گئی ہے کہ ان کا پرامن اجتجاج شاہی اقتدار کے خاتمے تک جاری ر ہے گا۔
لیکن تجزیہ نگاورں کا کہنا ہے کہ عوامی اور بین الاقوامی دباؤ کے باوجود نیپال کی شاہی فوج کی پشت پناہی کی وجہ سے بادشاہت کے خاتمےکے آثار نظر نہیں آتے۔