Monday, 23 May, 2005, 02:09 GMT 07:09 PST
ایران میں سرکاری ٹیلی وثن نے اعلان کیا ہے کہ اگلے ماہ کے صدارتی الیکشن کے لئے انتخابی عمل کی نظرداری کرنے والے ادارے مجلسِ بُزرگان نے ایک ہزار امیدواروں میں سے صرف چھہ کی نامزدگی کی اجازت دے دی ہے ۔
تمام خواتین اور بیشتراصلاح پسند امیدواروں کے کاغزات نامزدگی مسترد کر دئے گئے ہیں۔
ایران میں صدارتی انتخابات سترہ جون کو ہونے والے ہیں۔
ایران کے سرکاری ٹیلی وثن نے جِن چھہ امیدواروں کے ناموں کا اعلان کیا اُن میں کوئی خاتون امیدوار شامل نہیں جبکہ ایران میں اصلاحات کی حامی زیادہ تر نامور شخصیات کو بھی مجلسِ بُزرگان نے نااہل قرار دیدیا ہے۔
ملک کی اصلاحات کی حامی سب سے بڑی جماعت نے پہلے ہی دھمکی دے رکھی ہے کہ اگر اسکے امیدوار کو الیکشن سے باہر رکھا تو وہ انتخابات کا بائیکاٹ کریگی۔
رائے عامہ کے اندازوں کے مطابق سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کو اسوقت سب سے زیادہ حمایت حاصل ہے۔
نظرداری کرنے والے ادارے مجلسِ بُزرگان نے گزشتہ برس بھی تقریباً ڈھائی ہزار امیدواروں کی نامزدگی مسترد کر دی تھی۔ یہ کونسل امیدوراوں کی اہلیت کا تعین اخلاقی اور اسلامی اقدار کے تناظر میں کرتا ہے۔