Sunday, 15 May, 2005, 23:45 GMT 04:45 PST
امریکہ کےجریدے نیوز ویک کے ایڈیٹر نے کہا ہے کہ کیوبا میں گونتنامو بے کے نظر بندی کیمپ میں امریکی فوجیوں کی طرف سے قرآن کی مبینہ بے حرمتی کے متعلق ان کے جریدے میں چھپنے والی خبر غلط ہو سکتی ہے۔
نیوز ویک میں گزشتہ ہفتے ایک مضمون میں ذرائع کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ گوانتانامو میں نظر بندوں کو حوصلے پست کرنے کے لیے بیت الخلاء میں قرآن کے نسخے رکھے جاتے تھے اور ایک موقع پر ایک نسخہ ٹائلٹ سے بہا بھی دیا گیا تھا۔
تاہم نیوز ویک کے ایڈیٹر کا اب یہ کہنا ہے کہ جس شخص نے انھیں یہ خبر دی تھی وہ یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ اسے یہ اطلاع کہاں سے ملی تھی۔
واشنگٹن سے بی بی سی کے نامہ نگار کلیو مائر کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن کی مبینہ بے حرمتی کے الزامات نیوزویک کے نو مئی کو چھپنے والے شمارے میں پہلی مرتبہ شائع ہوئے جس سے پوری مسلم دنیا میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور اس کے خلاف افغانستان، پاکستان، اور غزہ سے انڈونیشیا تک احتجاج ہوا۔
اس مضمون کے بعد سب سے پہلے افغانستان میں مظاہرے شروع ہوئے جو چار دن تک جاری رہے اور ان میں سولہ لوگ ہلاک ہوگئے۔ امریکہ کی طرف سے یہ بیان آیا کہ کسی بھی مقدس کتاب کی بے حرمتی برداشت نہیں کی جائے گی اور امریکی فوج نے اس سلسلے میں تحقیقات کا آغاز کر دیا۔
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کا اب کہنا ہے کہ یہ خبر غلط ہے اور ایسے شواہد نہیں ملے جو ان الزامات کو ثابت کرتے ہوں۔
نیوز ویک کے ایڈیٹر ویٹ ٹیکر کا کہنا ہے کہ جس ذریعے کے حوالے سے یہ الزامات سامنے آئے تھے وہ یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ یہ الزامات درست ہیں یا نہیں اور یہ ہو سکتا ہے کہ ان کے رسالے نے غلط خبر شائع کر دی ہو۔
انھوں نے کہا کہ ان کا ادارہ اس سلسلے میں کسی بھی غلطی پر افسوس کا اظہار کرتا ہے اور احتجاج کرنے اور اس کی وجہ معتوب ہونے والوں سے افسوس کا اظہار کرتا ہے۔