Saturday, 07 May, 2005, 17:00 GMT 22:00 PST
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں سنیچر کو ایک انٹرنیٹ کیفے میں بم دھماکے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد تین ہو گئی ہے۔
دھماکے میں اقوام متحدہ کے ایک اہلکار بھی ہلاک ہو گئے ہیں جو برما کے شہری تھے۔ پولیس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں خودکش حملہ آور بھی شامل ہے۔
اطلاعات کے مطابق کابل کے صحرائے نو کے علاقے میں واقع پارک ریذیڈنٹ نیٹ کیفے سے سنیچر کو مقامی وقت کے مطابق چھ بجے زبردست بم دھماکے کی آواز سنائی دی۔
دھماکے سے انٹرنیٹ کیفے تباہ ہو گیا۔ دو افراد کو ملبے سے نکالا گیا ہے لیکن ایک شخص ابھی ملبے میں پھنسا ہوا ہے ۔امدادی کارکن اسے ملبے سے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ تین مشتبہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
اس علاقے میں غیر ملکیوں کی ایک بڑی تعداد رہائش پذیر ہے۔
خبر رساں ایجیسنی اے ایف پی نے کابل کے پولیس سربراہ کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ دہشت گردی کی کارروائی ہے۔
کابل میں بی بی سی کے نمائندے اینڈریو نارتھ نے بتایا کہ دھماکے کی جگہ پر ہر طرف خون بکھرا ہوا ہے اور یہ دھماکہ ہر غیر ملکی لوگوں پر حملہ تھا جو اکثر ان انٹرنیٹ کیفوں میں نظر آتے ہیں۔