Friday, 06 May, 2005, 06:19 GMT 11:19 PST
لیبر پارٹی کے رہنما ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ وہ عوام کی ترجیہات کو پوری طرح مدِ نظر رکھیں گے۔
ٹونی بلیئر جمعرات کے انتخابات میں لیبر پارٹی کی مسلسل تیسری مرتبہ کامیابی کے بعد بات کر رہے تھے۔
ٹونی بلیئر نے تسلیم کیا کہ عراق کی جنگ نے بہت تقسیم کیا ہے لیکن انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ ’میں نے سنا ہے اور سیکھا ہے‘۔
واضح رہے ماضی کے مقابلے میں اس مرتبہ پارلیمان میں اس کی اکثریت میں واضح کمی ہوئی ہے۔
چند نشستوں کے نتائج کا اعلان ہونا ابھی باقی ہے تاہم 646 نشستوں میں سے لیبر پارٹی کو اب تک355 نشستیں حاصل ہو چکی ہیں۔ اسے اکثریت حاصل کرنے کے لیے 324 نشستیں درکار تھیں۔
جمعرات کو ہونے والے انتخابات میں دوسرے نمبر پر آنے والی جماعت کنزرویٹو پارٹی ہے جسے اب تک 197 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ ٹوری پارٹی کی عددی برتری گزشتہ بار کی نسبت کچھ بڑھی ہے۔ تا حال اسے پچھلی بار کے مقابلے میں تیس سے زیادہ نشستیں ملی ہیں۔ مائیکل ہارورڈ نے جو ٹوری پارٹی کے سربراہ ہیں، یہ اعلان کر دیا ہے کہ وہ آئندہ الیکشن نہیں لڑیں گے۔
چالز کینیڈی کی قیادت میں لبرل ڈیموکریٹس نے اب تک 62 نشستیں حاصل کی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس الیکشن میں انہوں نے لیبر پارٹی کا احتجاجی ووٹ حاصل کیا ہے اور کچھ نشستوں پر لیبر کے امیدواروں کو شکست بھی دی ہے۔
کنزرویٹو کے رہنما مائیکل ہاورڈ نےلیبر کی کامیابی اور اپنی پارٹی کی شکست تسلیم کرتے ہوئے ٹونی بلیئر کو ان کی فتح پر مبارکباد دی اوراس بات پر خوشی ظاہر کی کہ کنزرویٹو نے پہلے سے زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں۔
لبرل ڈیموکریٹ رہنما چارلز کینیڈی نے کہا کہ برطانیہ میں تین پارٹیوں کی سیاست کا دور شروع ہوگیا ہے جس کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں۔
ٹونی بلیئر نےاخبارنویسوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ دانشمندانہ رویہ اپنائیں گے۔