Wednesday, 04 May, 2005, 21:13 GMT 02:13 PST
برطانیہ کی جیل میں زاہد مبارک نامی ایک نوجوان کی موت ایک عرصے تک موضوع بحث بنی رہی ہے اور اب اگرچہ نفسیاتی ماہرین کی تحقیقات کے نتیجے میں قاتلانہ حملے کے مرتکب کا نفسیاتی مریض ہونا ثابت ہو گیا ہے لیکن اب بھی ایک اہم سوال تسلی بخش جواب کا منتظر ہے۔
اس قتل کو مسلمان قیدیوں کے ساتھ نسل پرستانہ برتاؤ کا نتیجہ قرار دیا جا رہا تھا اور زاہد مبارک کو اس روز قتل کیا گیا تھا جس روز اس کی رہائی کچھ ہی گھنٹے باقی تھے۔
تحقیقات کے نتیجے بتایا گیا ہے کہ قاتلانہ حملے کا مرتکب ایک نفسیاتی مریض ہے لیکن اس کے ساتھ ہی وہ نسل پرستانہ تصورات کا حامی بھی ہے اور تحقیقات سے یہ گتھی نہیں سلجھی کہ ایسی قیدی کے ساتھ زاہد مبارک کو کیوں رکھا گیا؟
جیل میں مسلمان قیدیوں کے مشیر مقصود احمد نے مسلمان قیدیوں کے ساتھ اس طرح کے رویے پرانتہائی تعجب کا اظہار کیا ہے۔
2001 میں رابرٹ سٹورٹ نے زاہد مبارک پر حملہ کرکے انہیں شدید زخمی کر دیا تھا جس کی وجہ سے سات دن بعد ان کی موت ہوگئی۔
فیلتھم جیل میں اس وقت موجود افسر جیمز ارنلڈ پر نسل پرستی کے حوالے سے الزام لگایا گیا تھا۔ حالانکہ ان کا یہ کہنا ہے کہ زاہد مبارک پر حملے کا نسل پرستی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
تحقیقات کے مطابق زاہد مبارک کی موت نسل پرستی کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایسی واقعاتی موت تھی جو رابرٹ سٹورٹ کی ذہنی بیماری کے باعث ہوئی۔
زاہد مبارک جن کا تعلق مانچسڑ سے تھا اور لڑائی جھگڑے کے ایک مقدمے میں سزا کاٹ رہے تھے۔ رابرٹ سٹورٹ نے یہ حملہ ان پرمیز کی ٹوٹی ہوئی ٹانگ سے اس وقت کیا جب مبارک کچھ ہی گھنٹے بعد رہا ئی پانے والے تھے۔کہا جاتا ہے کہ بروقت طبی امداد نہ ملنا بھی مبارک کی موت کا ایک سبب تھا۔
مشرقی لندن کے رابٹرٹ سٹورٹ جن کی عمر اس وقت چوبیس سال ہے اب زاہد مبارک کیس میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔
![]() سٹورٹ:مبارک کے قتل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں |
مسٹر نارے کا مزید یہ کہنا تھا کہ جس وقت مبارک کی موت ہوئی اس وقت جیل میں سٹورٹ سے بھی زیادہ خطرناک قیدی موجود تھے۔
فیلتھم جیل کے اس واقعہ کے بعد حکومت نے امپیرل کالج لندن برائے نفسیات کے پروفیسر انتھونی میڈن اور انسٹیٹوٹ برائے نفسیات کے ماہر جون گن کو اس کیس میں اپنی ماہرانہ رائے دینے کے لیے منتخب کیا تھا۔
دونوں ماہروں نے اپنے بیانات میں رابرٹ سٹوٹ کو ایک ذہنی مریض قرار دیا ہےاور ان کی اس حالت کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہا ہے کہ یہ حملہ کمرے میں موجود کسی بھی قیدی پر ہوسکتا تھا۔