http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 25 April, 2005, 07:48 GMT 12:48 PST

عراق کی لٹی پٹی تاریخ

آج سے دو سال پہلے بغداد کے مرکز میں موجود دنیا کے سب اہم ترین عجائب گھروں میں سے ایک کو لوٹا گیا تھا۔

صدام حسین کی طاقت ختم ہو گئی تھی اور نئی قابض اتحادی فوج تاریخ کے خلاف اس جرم کو روکنے میں ناکام رہی تھی۔

بین الاقوامی مافیا سے جڑے پیشہ ور سمگلروں نے بغداد کے عجائب گھر کے مقفل دروازوں کو توڑ کر اس کے سٹور روم سے بیش قیمت نوادرات چوری کیے جن میں نادر مہریں اور آسیرین دور کا ہاتھی دانت کا نایاب کام تھا۔

عجائب گھر سے پندرہ ہزار سے زائد اشیاء چوری کی گئی تھیں اور سمگلروں نے ان میں سے بیشتر کو ملک سے باہر بھجوا دیا تھا۔

ابھی تک بغداد شہر سے تین ہزار چیزیں واپس ملی ہیں جو عام شہریوں اور پولیس والوں نے واپس کی ہیں۔ عراق کے ہمسایہ ممالک سے سولہ ہزار سے زائد چیزیں پکڑی گئی ہیں، اٹلی سے تین سو جبکہ امریکہ سے چھ سو نادر اشیاء برآمد کی گئی ہیں۔

کئی ویب سائٹس میسوپوٹیمیا کے نوادرات بیچ رہی ہیں جن میں سے کئی ایک سات ہزار سال پرانے بتائے جاتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ان میں سے کئی ایک جعلی ہوں گی لیکن صرف ان کے ویب سائٹ پر آنے سے عراق میں تاریخی مقامات کی لوٹ مار پھر شروع ہو گئی ہے۔

ہزاروں سال پرانے سمیرین شہر جیسا کہ اما، ام الخریب، لارسا، اور تیلو تباہی کی تصویر بنا دیے گئے ہیں جہاں سے لوگوں نے کھود کھود کر چیزیں نکالی ہیں۔
قدیم سمیریا کا دارالحکومت اما
قدیم سمیریا کے دارالحکومت اما کی ایک تباہ حال شکل

اگر ان کو صحیح طریقے سے کھودا جاتا تو ان جگہوں سے ہمیں معلوم ہوتا کہ انسانی ارتقاء اور ترقی کس طرح ہوئی۔

نہ صرف عام عراقیوں اور بین الاقوامی مافیا سے جڑے ہوئے سمگلروں نے بیش قیمت تاریخی نوادرات اور تاریخی سائٹس کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ ان کو تباہ کرنے میں اتحادی فوج کا بھی اتنا ہی ہاتھ ہے۔

اتحادی فوج نے کئی تاریخی مقامات کو فوجی اڈے بنا رکھا ہے اور وہاں چوکیاں قائم کی ہوئی ہیں۔ بابل سے اتحادی فوج کی واپسی کے بعد معلوم ہوا کہ فوج کی وہاں موجودگی سے قدیم تہذیب کے سات عجوبوں میں سے ایک کو کافی نقصان پہنچا ہے۔

برطانوی عجائب گھر کے ڈاکٹر جان کرٹس کے مطابق کس طرح فوج نے ان قدیم اور تاریخی سائٹس کے درمیان میں جگہوں کو برابر کر کے ہیلی کاپٹروں کے اترنے کے پیڈ بنوائے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ملک کے رہنماؤں نے آثارِ قدیمہ کو بچانے کے لیے کوئی سیاسی قدم نہ اٹھایا تو اس تاریخی ملک کے قدیم ورثے کی مکمل تباہی میں کوئی کمی نہیں رہے گی۔