Thursday, 07 April, 2005, 10:41 GMT 15:41 PST
روم میں حکام نے پوپ جان پال دوئم کے آخری دیدار کے لیے آنے والے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ شہر کے مرکز سے دور رہیں کیونکہ وہ جمعہ کو پوپ کے جنازے سے پہلے مزید سوگواروں کے لیے وہاں انتظام نہیں کر سکتے۔
ایک اندازے کے مطابق دس لاکھ کے قریب افراد قطاروں میں پوپ کے آخری دیدار کی امید میں انتظار کر رہے ہیں۔ تاہم حکام نے اب قطاروں کو مزید بڑھنے سے روک دیا ہے۔
روم کی پولیس کے سربراہ کے مطابق پوپ کے انتقال سے بعد سے اب تک چالیس لاکھ افراد روم آئے ہیں جس کی اپنی آبادی تیس لاکھ کے قریب ہے۔
انہوں نے کہا سوگواروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور توقع ہے کہ پولینڈ جو پوپ کا آبائی ملک تھا وہاں سے بیس لاکھ افراد روم آئیں گے۔
جنازے میں شریک ہونے والے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان امریکی صدر جارج ڈبلیو بش برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر ایرانی صدر محمد خاتمی برازیل کے صدر لوئ ایناشیو لولا ڈی سلوا فلسطین کے وزیرِ اعظم احمد قریع فرانسیسی صدر ژاک شیراک تائیوان کے صدر چین شیوئیبیان ڈی آر کونگو کے صدر جوزف کابیلہ یورپی یونین کے صدر ہوسے مینوئل باراسو |
پوپ کے آخری دیدار کے لیے سوگواروں کی قطار ایک موقعہ پر دو کلو میٹر طویل ہو گئی تھی۔ پولیس نے مزید سوگواروں کو اس قطار میں شامل ہونے سے روکنے کے لیے انسانی زنجیر بنائی۔ قطار کے آخر میں کھڑے لوگوں کو پندرہ گھنٹے انتظار کرنے کے بعد پوپ کا آخری دیدار نصیب ہونے کی امید ہے۔
دنیا بھر سے مذہبی اور سیاسی رہنما روم پہنچ رہے ہیں جہاں سخت سیکیورٹی انتظامات میں پوپ جان پال دوئم کی آخری رسومات ادا کی جائیں گی۔
اس تقریب میں دنیا بھر سے دو سو کے قریب اہم سیاسی شخصیات شرکت کے لیے روم آ رہے ہیں جہاں طیارہ شکن میزائیل اور ہزاروں کی تعداد میں پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔
![]() مزید لوگ پوپ کا آخری دیدار نہیں کر سکیں گے |
کارڈینلز نئے پوپ کے انتخاب کا عمل 18 اپریل سے شروع کر دیں گے۔