http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 05 April, 2005, 11:29 GMT 16:29 PST

ہندو دیوی کی بے حرمتی پر مقدمہ

بھارتی ریاست مغربی بنگال میں ایک ریٹائرڈ پولیس افسر نے مشہور مصنف کے خلاف ہندو دیوی سرسوتی کی بے حرمتی کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کر دیا ہے۔

بیبھوتی بھوسان نندے نے الزام لگایا ہے کہ مقامی بنگالی اخبار میں شائع ہونے والے سنیل گنگوپادیائے کے بیان سے ان کے اور دوسرے ہندؤوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ علم کی ہندو دیوی سرسوتی کے پجاری ہیں۔

خبر میں سنیل کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ وہ ایک دفعہ سرسوتی کے مجسمے کو دیکھ کر اتنے جذباتی ہوئے کہ انہوں نے اس کے جنسی اعضاء پر بوسہ دے دیا۔

سرحدی پولیس کے سابق افسر نے درخواست میں کہا ہے کہ سنیل نےاپنی جنسی جذبات کی تسکین کے لیے ہندوؤں کی مقدس دیوتی کو استعمال کیا اور اس کی بے حرمتی کی ہے۔

مقامی پولیس نے پہلے تو انکار کیا لیکن بعد میں ایک اعلیٰ افسر کے اصرار پررپورٹ درج کر لی۔

یہ مقدمہ ایسے وقت میں درج کیا گیا ہے جب مغربی بنگال میں بنگلہ دیش کی مشہور ناول نگار تسلیمہ نسرین کے نئے ناول پر پابندی کے خلاف کلکتہ میں قانونی کارروائی جاری ہے۔

دلچسپ پہلو یہ ہے کہ سنیل حکومت کی اس کمیٹی کے رکن ہیں جس نے نسرین کے ناول کو نظرثانی کی اور پابندی لگانے کا مشورہ دیا۔