Monday, 04 April, 2005, 12:01 GMT 17:01 PST
پاپائے روم جان پال دوئم کی وفات کے دوسرے دن ویٹیکن میں کیتھولک فرقے کے چرچ کے اجلاس میں پوپ کی آخری رسومات جمعہ کے روز ادا کرنے کا اعلان کیا گیا۔
اس سے قبل روم کے میئر نے کہا تھا کہ پوپ کو جمعہ کے روز دفن کیا جائے گا۔
کیتھولک فرقے کے چرچ کے اجلاس میں دنیا بھر سے ایک سو بیس کارڈینلز شرکت کرنے کا استحقاق رکھتے ہیں۔ دنیا بھر سے آئے ہوئے ان کارڈینلز نے اجلاس کے آغاز میں نئے پوپ کے انتخاب میں مکمل راز داری برتنے کا حلف اٹھایا۔
اس اجلاس میں کارڈینلز پوپ کی اپنی تدفین کے بارے میں وصیت بھی پڑہیں گے۔ پوپ کو ویٹیکن میں سینٹ پیٹرز بیسلیکا میں بڑی قربان کے ایک تہہ خانے میں دفن کیا جائے گا۔ تاہم کچھ اطلاعات کے مطابق پوپ نے شاید یہ وصیت میں لکھا ہو کہ انہیں اپنے آبائی وطن پولینڈ میں دفنایا جائے۔
جمعہ تک پوپ کی میت کو دیدار عام کے لیے ویٹیکن کے سینٹ پیٹرز بیسلیکا میں رکھا جائے گا۔
پوپ جان پال کو خراج عقیدت پیش کرنے اور ان کی آخری رسومات میں شرکت کرنے کے لیے بیس لاکھ لوگوں کی روم آمد متوقع ہے اور روم میں حکام ان لوگوں کی آمد پر شہر میں بنیادی سہولیات مہیا کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔
![]() یروشلم میں پوپ کو خراج عقیدت پہنچانے کے لیے موم بتیاں جلائی جا رہی ہیں |
اس کے علاوہ حکام شہر میں ٹی وی کی بڑی بڑی سکرینیں لگانے پر بھی غور کر رہے ہیں تاکہ جو لوگ قریب نہ پہنچ پائیں وہ دور ہی سے پوپ کی آخری رسومات کو دیکھ سکیں۔
دریں اثنا پوپ کی وفات کے بعد رومن کتھولک فرقے کے کارڈینلز کا پہلا اجلاس پیر کو ہو رہا ہے جس میں پوپ کی تدفین کی تاریخ طے کی جائے گی اور اس کے لیے انتظامات کو آخری شکل دی جائے گی۔
کارڈینلز کا اجلاس ہر روز منعقد ہو گا جس میں وہ چرچ کے روز مرہ کے معاملات کو طے کریں گے تاہم روایت کے مطابق نئے پوپ کا چناؤ پوپ کی وفات کے پندرہ دن تک شروع نہیں کیا جا سکتا۔
بی بی سی کے ایک اور نامہ نگار کے مطابق ابھی نئے پوپ کے بارے میں کوئی قیاس آرائی کرنا قبل از وقت ہو گا۔
ویٹیکن کے مذہبی رہمنا اور اطالوی حکام جن میں اطالوی وزیر اعظم سلو بیلسکونی بھی شامل تھے اتوار کو پوپ کا آخری دیدار کر چکے ہیں۔