Sunday, 03 April, 2005, 13:47 GMT 18:47 PST
کیتھولک فرقے کے روحانی پیشوا پاپائے روم جان پال دوئم کی میت کو ویٹیکن میں آخری دیدار کے لیے رکھ دیا گیا ہے۔
پوپ کا آخری دیدار کرنے والوں کی قطار میں اطالوی وزیر اعظم سلویو برلسکونی بھی شامل تھے۔
اس سے قبل سینٹ پیٹرس سکوائر میں لاکھوں سوگواروں نے کھلے آسمان تلے منعقد ہونے والی دعائیہ تقریب میں شرکت جو پوپ جان پال کو تعظیم دینے کے لیےمنقعد کی گئی۔
پوپ جان پال دوئم ہفتے کی شام کو طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے تھے۔
![]() پوپ کی میت کو ایک چبوترے پر رکھا گیا ہے |
پوپ جان پال دوئم ہفتے کو مقامی وقت کے مطابق 9:37 ( جی ایس ٹی7:37 ) پر دل اور گردوں کے کام بند کرنے کی وجہ سے وفات پا گئے۔
سینٹ پیٹرزسکوائر میں جمع ہزاروں لوگ پوپ جان کے لیے دعا کر رہے ہیں۔
پولینڈ میں پیدا ہونے والے کیرول وجٹیا 1978 میں پوپ کے عہد ے پر فائز ہوئے۔ وہ اسقاط حمل اور ضبط تولید پر قدامت پسند خیالات کے حامی تھے۔
جان پال کی میت کو ویٹیکن کے ایک ہال میں ایک چبوترے پر رکھ دیا گیا اور ان کے سرہانے روائیتی لباس میں ملبوس دو محافظ کھڑے ہیں۔
پوپ کی میت کو سینٹ پیٹرس بیسلیکا لے جایا جائے گا جہاں پر ان کا دیدارِ عام ہو گا۔
حکام کا خیال ہے کہ پوپ جان پال دوئم کے آخری دیدار کے لیے لاکھوں افراد روم آئیں گے۔
پوپ کی تدفین کی تاریخ ابھی طے نہیں کی گی لیکن توقع ہے کہ انہیں بدھ سے پہلے نہیں دفنایا جائے گا۔
![]() روم میں ایک شخص پوپ کی وفات پر دوزانوں ہو کر دعا مانگ رہا ہے |
ویٹیکن نے پاپائے روم کی صحت کے بارے پوری دنیا کو باخبر رکھا اور تھوڑے تھوڑے وقفے سے ان کے صحت کے بارے میں بلیٹن جاری کرتے رہے۔
پاپائے روم جان پال دوئم فروری میں حلق کے آپریشن کے بعد پوری طرح صحت یاب نہیں ہوسکے اور انہیں خوراک ایک نالی کے ذریعے دی جا رہی تھی جس کے باعث انہیں بولنے میں بھی دشواری رہی۔
ویٹیکن میں ان کی صحت کے بارے میں جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پیشاب کی نالی میں انفیکشن کی وجہ سے انہیں تیز بخار ہوگیا تھا۔
چوراسی سالہ پوپ کئی سال پارکنسن (فالج اور رعشے کے مرض) میں مبتلا رہے۔
ویٹیکن کے سینٹ پیٹر سکوائر میں پاپائے روم کے معتقدین کی ایک بہت بڑی تعداد جمع تھی جو ان کی موت کی خبر سن کر رونےلگے۔
کیتھولک فرقے کے ایک مذہبی رہنماء کے مطابق تقریباً تیس ہزار لوگ سکوائر میں موجود تھے۔