Wednesday, 30 March, 2005, 08:10 GMT 13:10 PST
عراق میں امریکی فوج کی قیادت کرنے والے جرنیلوں نے عراقی قیدیوں سے تفتیش کے دوران تشدد کے مختلف جسمانی اور اعصابی طریقے آزمانے کی منظوری دی تھی جن میں تربیت یافتہ فوجی کتوں کا استعمال بھی شامل تھا۔
امریکہ کی شہری آزادیوں کی غیر سرکاری تنظیم امریکن سول لبرٹیز یونین نے حال ہی میں ایک سرکاری دستاویز حاصل کی ہے جس میں سرکردہ امریکی جرنیلوں کی طرف سے تشدد کے طریقے استعمال کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔
اس دستاویز جس کی منظوری ستمبر دو ہزار تین میں دی گئی پر عراق میں اس وقت کے امریکی جنرل ریکارڈو سانچیز کے دستخط ہیں۔
امریکی شہری آزادیوں کی تنظیم کا کہنا ہے کہ اس دستاویز میں تفتیش کے لیے جن طریقوں کے استعمال کی اجازت دی گئی تھی وہ عام طور پر قابل قبول طریقوں سے الگ تھے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل کو ان طریقوں کی منظوری دینے پر معافی مانگنی چاہیے۔
تاہم ان تمام طریقوں کے استعمال پر ایک ماہ کے بعد فوج کے قانونی مشیروں کی مخالفت کے بعد پابندی لگا دی گئی تھی۔
امریکی وزارتِ دفاع پینٹاگون نے ابتدا میں قومی سلامتی کے بہانے اس دستاویز کو شہری آزادیوں کی تنظیم کو فراہم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ لیکن تنظیم نے اطلاعات تک رسائی کی آزادی کے قانون کے تحت عدالت سے رجوع کیا جس کے بعد وزارت دفاع نے یہ دستاویز تنظیم کو فراہم کر دی۔
شہری آزادیوں کی تنظیم کے مطابق اس دستاویز میں کم از کم تشدد کے بارہ سے انتیس ایسے طریقے استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے جو کہ فوج کے قواعد و ضوابط کے مطابق نہیں تھے۔
شہری آزادیوں کی تنظیم کے قانونی مشیر امریت سنگھ نے کہا ہے کہ تشدد کے جن طریقوں کے استعمال کی اجازت جنرل ریکارڈو شانچیز نے دی تھی وہ جنیوا کنونشن کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا ریکارڈو سانچیز اور دوسرے ذمہ دار فوجی افسروں کا احتساب ہونا چاہیے۔