Tuesday, 29 March, 2005, 01:30 GMT 06:30 PST
عراقی قومی اسمبلی کا جنوری کے بعد دوسرا اجلاس شروع ہو گیا ہے تاہم اب تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ نئی حکومت کب وجود میں آئے گی اور کب کام شروع کر سکے گی۔
یہ اجلاس پیر کو عراق کے وقت کے مطابق صبح نو بجے ہونا تھا اور اس میں ایک سپیکر اور دو نائب سپیکروں کا انتخاب ہونے والا تھا۔ اس اجلاس کے افتتاحی سیشن کو دو بار ملتوی کیا گیا تاکہ کسی اتفاقِ رائے پر پہنچا جا سکے۔
اس دوران عراق کے عبوری صدر غازی الیاور کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ مسٹر یاور نے عراق کے نومنتخب پارلیمان کے سپیکر کا عہدہ سنبھالنے سے انکار کر دیا ہے۔
ترجمان نے مسٹر یاور کے اس فیصلے کی وجہ نہیں بتائی تاہم نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مسٹر یاور کو، جو کہ ایک سنی مسلمان ہیں، شاید اب بھی یہ امید ہے کہ انہیں نائب صدر کے دو عہدوں میں سے ایک کے لیے نامزد کیا جائے گا۔
مسٹر یاور عراق کی عبوری حکومت میں سنیوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ دو ماہ قبل ہونے والے قومی انتخابات میں کئی سنیوں نے حصہ نہیں لیا تھا۔
بڑے پارلیمانی گروپ متحدہ عراقی اتحاد اور کرد جماعتوں کے اتحاد کے درمیان حکومت سازی پر جاری مذاکرات تیسرے ماہ میں داخل ہو رہے ہیں لیکن اب تک کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکے۔