Saturday, 26 March, 2005, 19:53 GMT 00:53 PST
امریکی وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس نے کہا ہے کہ وہ ستمبر گیارہ کمشن کی سفارشات سے بہت متاثر ہوئی ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ نے نوئے کی دہائی میں پاکستان کا ساتھ چھوڑ کر اچھا اقدام نہیں کیا تھا جس کی وجہ سے پاکستان کو طالبان کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے پر مجبور ہوگیا تھا۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کو دیئے گئے انٹرویو میں امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ گیارہ ستمبر کمیشن کی اس سفارش نے ان کو خاص طور پر متاثر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کو پاکستان کے ساتھ تعلقات پر توجہ دینی چاہیے۔
امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اب ایک ایسی سطح پر پہنچ گیا ہے جہاں سے وہ کئی سال پہلے ہٹ چکا تھا۔
پاکستانی وزیرِ اعظم شوکت عزیز نے امریکہ کی طرف سے پاکستان کو ایف سولہ طیارے دینے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔
بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کے ترجمان نے پاکستان کو ایف سولہ طیارے بچنے کے ا مریکی فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ طیاروں کی فروخت سے خطے میں سلامتی کو خطرہ لاحق ہو گا اور اسلحے کی دوڑ شروع ہو جائے گی۔
امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کو جدید اسلحہ کی فراہمی کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ امریکہ بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات کو کوئی اہمیت نہیں دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کی کوشش ہے کہ وہ بھارت اور پاکستان دونوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو فروغ دے۔
امریکی وزیر خارجہ نے کہ ایک ہی وقت میں پاکستان اور بھارت کے اچھے تعلقات کا خیال بہت سارے لوگوں کی سمجھ سے بالا تر ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ ایک ملک کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کا مطلب دوسرے کے ساتھ بگاڑ ہے۔