Tuesday, 22 March, 2005, 07:44 GMT 12:44 PST
منگل کو عرب رہنماؤں کا اجلاس ہو رہا ہے جس میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کی پیش کش پر بات ہوگی بشرطیکہ اسرائیل تمام مقبوضہ عرب علاقہ خالی کر دے۔
توقع ہے کہ عرب رہنما لبنان اور شام کے تئیں حماحت کا اظہار بھی کریں گے لیکن اس وقت یہ بحران ان کے ایجنڈے میں نہیں ہے۔
22 میں سے 12 عرب رہنماؤں نے کہا ہے کہ وہ الجزائیر میں ہونے والی عرب رہنماؤں کی سالانہ سربراہ کانفرنس میں شرکت کریں گے جس میں توقع ہے کہ اسرائیل کو امن کی تین سال پرانی پیشکش کو بحال کیا جائے گا۔
اس پیشکش میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل تمام 22 عرب ریاستوں کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کے لئے ان تمام عرب علاقوں کو خالی کر دے جس پر اس نے 1967 میں قبضہ کیا تھا۔
جن عرب وزراء خارجہ نے اردن کی اِن تجاویز کو مسترد کر دیا ان کا کہنا ہے کہ ان تجاویز سے لگ رہا ہے کہ عرب بغیر کچھ حاصل کئے ہی بہت رعایتیں دے رہے ہیں۔
فلسطین اور اسرائیل کی جانب سے تشدد ترک کرنے کا فیصلہ کئے جانے کے بعداردن خطے میں ماحول کو بہتر بنانا چاہتا تھا۔
توقع ہے کہ عرب رہنما ان پرانی قراردادوں کو پھر دہرائیں گے جن میں شام کے تئیں حمایت اور اور اس کے خلاف امریکی پابندیوں کی مخالفت کا اظہار ہوگا۔
تاہم یہ رہنما لبنان میں شام کی افواج کی موجودگی اور لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق حریری کے قتل کے بعد پیدا ہونے والے بحران پر کوئی رسمی تبادلہ خیال نہیں کریں گے۔
اس سال 10 عرب رہنما کانفرنس میں شرکت نہیں کر رہے۔