Monday, 21 March, 2005, 23:21 GMT 04:21 PST
عراق اور اردن کے سفارتی تعلقات کی انتہائی کشیدگی اورو دونوں ملکوں کے سفیروں کی اپنے اپنے ملکوں کو واپسی کے ایک ہی دن بعد اردنی سفیر کو پھر واپس عراق جانے کی ہداتی دی گئی ہے۔
اطلجعت کے مطابق اردن کے شاہ شہزادہ عبداللہ نے عراق سے واپس بلائے جانے والے اپنے سفیر کو ہدایت کی وہ واپس عراق جائیں۔
بتایا گیا ہے کہ اردن کے شاہ عبداللہ نے اپنے سفیر کو واپس اس لیے بلایا تھا کہ کہ دونوں ملکوں کے مابین سفارتی تنازعہ طے کرایا جائے۔
اس تنازعے کی وجہ عراقی حکومت کا یہ موقف تھا کہ اردن عراق میں ہونے والی مسلح مزاحمت کاری میں خاصی حد تک ملوث ہے اور عراق کے وزیرخارجہ ہوشیار زیباری کا کہنا ہے کہ ان کے ملک نے اپنا سفیر ناراضگی کے اظہار کے لیے واپس بلایا ہے۔
اردن نے اپنے سفیر کو اس سے پہلے ہی واپس بلا لیا تھا اور اس کی وجہ یہ بتائی تھی کہ اس کا سفارت خانہ عراق میں محفوظ نہیں ہے۔
اردن نے یہ فیصلہ عراق میں اپنے سفارتخانے کے باہر ہونے والے اس مظاہرے کے بعد کیا تھا جس کے دوران اردن کے پرچم نذرِ آتش کیے گئے تھے۔
یہ مظاہرہ اہل تشیع نے کیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ موصل میں مسجد پر ہونے والے خود کش حملے میں ایک اردنی باشندہ ملوث تھا۔
دوسرے ذرائع کے مطابق عراقی اہلِ تشیع اس بات پر ناراض ہیں کہ جب 28 فروری کو جنوبی بغداد کے ایک سو پچیس افراد ہلاک ہوئے تھے تو ایک اردنی خاندان منصور البنّا اس حود کش حملے کا جشن منایا تھا۔
![]() مظاہرین نے اردنی پرچم بھی نذرِ آتش کیا |
تاہم منصور البنّا خاندان نے مذکورہ خود کش حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ کہیں بھی کسی خود کش حملے میں ملوث نہیں ہے۔