Monday, 14 March, 2005, 21:29 GMT 02:29 PST
پہلے سے کیے گئے اعلان کے مطابق عراق کے حالیح انتخابات کے بعد اسمبلی کا پہلا اجلاس سولہ مارچ بدھ کو ہونے والا ہے اور اس دوران بغداد سے اطلاع ہے کہ حکومت سازی کے لیے مذاکرات بھی شروع ہونے والے ہیں۔
انتخِابات میں اکثریت حاصل کرنے والے شیعہ رہنماؤں نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ حکومت سازی پر کردوں سے مفاہمت ہو جائے گی۔
دوسری طرف کرد سیاست داں اتنی امید پرستی کا اظہار نہیں کر رہے اور ان کا کہنا ہے کہ حکومت سازی سے قبل بہت سے معاملات پر مفاہمت ضروری ہے۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ عراقی پارلیمنٹ کا پہلا اور افتتاحی اجلاس محض رسمی نوعیت کا ہو گا اور اس میں کسی طرح کی پیش رفت متوقع نہیں ہے۔
شیعے رہنما کردوں سے مذاکرات کا آغاز پہلے ہی کر چکے ہیں حالانکہ انہیں نئی اسمبلی کے لیے انتخابات میں نصف سے زائد نششتیں حاصل ہوئی ہیں۔
تاہم اس دوران تشدد کا سلسلہ بھی جاری ہے جس میں کرد ٹیلی ویژن کے لیے کام کرنے والے ایک کیمرہ مین کو موصل میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔اس کیمرہ میں کو بارہ گھنٹے قبل اغوا کیا گیا تھا۔
جنوبی بغداد میں ایک دھماکے میں دو عراقی ہلاک ہوئے ہیں۔
عراق کی وزات صحت کے ایک سینیئر اہلکار پر بظاہر ایک قاتلانہ حملہ ہوا ہے جس میں جس ان کے چار محافظ ہلاک ہوئے ہیں۔
اس سے پہلے عراق کے نائب وزیرِاعظم برہام صالح نے کہا کہ اگر اس وقت تک حکومت تشکیل نہ پا سکی تو اس سلسلے میں مذاکرات اسمبلی کے اجلاس کے دوران بھی جاری رہیں گے۔
عراقی سیاستدان پانچ ہفتوں سے حکومت کی تشکیل کی کوششوں میں مصروف ہیں اور اعلیٰ عہدوں پر شخصیات کے ناموں پر اتفاق نہیں ہو سکا۔
اسمبلی کا افتتاحی اجلاس کرد قصبے حلعبجہ پر صدام حسین کی کیمیکل بمباری کی برسی کے موقع پر ہو رہا ہے یہ بمباری سولہ مارچ انیس سو اٹھاسی کو کی گئی تھی جس کے نتیجے میں پانچ ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔