Monday, 14 March, 2005, 13:43 GMT 18:43 PST
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے کہا ہے کہ انہیں گزشتہ دو دنوں میں فلسطینی اور اسرائیلی رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات کے بعد بڑا حوصلہ ملا ہے
رملہ میں فلسطینی صدر محمود عباس کے ساتھ ملاقات کے بعد ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر عنان نے کہا حالیہ واقعات سے مشرق وسطی میں قیام امن کے عمل کو ایک نیا حوصلہ ملے گا۔ جن میں اسرائیل کی جانب سےمقبوضہ غرب اردن سے غیر قانونی یہودی بستیوں کو ہٹانا بھی شامل ہے ۔
غزہ اور غرب اردن میں تمام یہودی بستیاں بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی تصور کی جاتی ہیں لیکن اسرائیل اس بات سے اتفاق نہیں کرتا۔
مسٹر عباس نے امید ظاہر کی ہےکہ شدت پسند اس ہفتے جنگ بندی کے لئے رضامند ہو جائیں گے۔
اتوار کو اسرائیلی ٹی وی پر انہوں نے کہا کہ منگل کو قاہرہ میں تمام فلسطینی گروپوں کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں جنگ بندی کا اعلان ہو سکتا ہے۔
جس وقت مسٹر عنان مسٹر عباس سے مذاکرات کر رہے تھے اسی وقت سینکڑوں فلسطینی غرب اردن میں اسرائیل کی متنازعہ فصیل کےخلاف مظاہرہ کر رہے تھے۔
فروری میں شرم الشیخ میں ہونے والی سربراہ کانفرنس میں مسٹر عباس اور اسرائیلی وزیر اعظم نے جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا لیکن شدت پسند فلسطینی گروپوں نے رسمی طور پر اس جنگ بندی میں شرکت نہیں کی تھی۔
مسٹر عنان نے تسلیم کیا کہ مشرق وسطی سے متعلق اقوام متحدہ کی کچھ قراردادوں پر کافی پہلے عمل ہو جانا چاہئے تھا ۔
اتوار کے دن مسٹر عنان نے اسرائیلی وزیر اعظم ایرئیل شرون سے ملاقات کی۔
اسرائیلی اور فلسطینی وزراء آج غرب اردن کے پانچ شہروں میں سکیورٹی کے مسلے پر دوبارہ بات شروع کرنے والے ہیں۔