Tuesday, 08 March, 2005, 03:15 GMT 08:15 PST
شام فوج کے دستے لبنان کے سرحدی علاقے بقاع کی طرف روانہ ہونا شروع ہو گئے ہیں لیکن امریکہ کے مطابق شام کا لبنان کے سرحدی علاقے میں اپنی فوج کو منتقل کرنا کافی نہیں اور وہ اپنی فوج کو اپنے ملک میں واپس بلائے۔
امریکہ نے کہا ہے کہ شام کے لبنان سے اپنی فوجوں کی سرحدی علاقے میں منتقلی آدھا قدم ہے اور وہ اپنی فوجوں کی مکمل اور فوراً شام واپس اپنے ملک منتقل کرئے۔
عربی ٹی وی چینل کے مطابق شامی فوج کا لبنان سے انخلاء شروع ہو گیا ہے اور شامی فوج کا نو سو گاڑیوں کا قافلہ وادی بقاع کی طرف جاتا دیکھا گیا ہے۔
دوسری طرف حزب اللہ نے شام کے حق میں مظاہرے کا اعلان کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان سکاٹ مکلین نے شام کو کہا کہ وہ لبنان سے ’فوجی اور انٹیلیجنس فورسز کو مکمل اور جلد واپس بلا لے‘۔
ان کا بیان اس وقت آیا ہے جب شام اور لبنان کے صدور نے اعلان کیا ہے کہ لبنان سے شامی افواج کا انخلاء اور وادی بقاع میں تعیناتی کا عمل اس ماہ کے آخر تک مکمل ہو جائے گا۔
شامی صدر بشار الاسد اور لبنان کے صدر عمائیل لاہود نے اس بات کا اعلان دمشق میں مذاکرات کے بعد کیا۔
انہوں نے کہا کہ شامی فوج کو لبنان کے مشرق میں وادی بقاع میں تعینات کیا جائےگا اور شام اور لبنان کی افواج کے سربراہان ایک ماہ کے اندر یہ فیصلہ کریں گے کہ یہ افواج کتنا عرصہ وہاں ٹھہریں گی۔ اس عرصے کے بعد شامی فوج کے مکمل انخلاء پر بات چیت ہوگی۔
دمشق سے بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ اس اعلان سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ شامی افواج لبنان سے مکمل طور پر چلی جائیں گی۔ یاد رہے کہ امریکہ اور دیگر ممالک لبنان سے شامی فوج کے مکمل انخلاء کا مطالبہ کر رہے ہیں۔