Sunday, 06 March, 2005, 15:26 GMT 20:26 PST
صدر بشرالاسد کے اس اعلان کے بعد کہ وہ اپنی فوجوں کو لبنان کے سرحدی علاقے بیکا ویلی تک لے جانے کے لیے تیار ہیں پیر سے فوجوں کی منتقلی کا آغاز ہو رہا ہے اور اس دوران حزب اللہ نے لبنان میں شام نواز مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔
حزب اللہ کے سربراہ شیخ حسن نصراللہ نے کہا ہے کہ منگل کو کیے جانے والے یہ مظاہرے پر امن ہوں گہ۔ بقول ان کے ان کا ملک لبنان اب جنگ کی حالت میں ہے اور لبنانی عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے ملک کا دفاع کریں۔
اس دوران شام کے وزیر دفاع عبدالرحیم مراد نے کہا ہے کہ وہ پیر کو لبنان میں اپنے ہم منصب سے ملاقات کر رہے ہیں ان کا کنا تھا کہ پیر کو لبنان اور شامی قیادت کے درمیان ملاقات کے بعد فوجوں کی منتقلی شروع ہو جائے گی۔
صدر بشر نے سنیچر کو فوجوں کی منتقلی کا اعلان کیا تھا اور ان کا کہنا تھا اگر شام کے عوام کہیں گے تو وہ اپنی فوجوں کو شام کو واپس بلا لیں گے تاہم واشنگٹن میں امریکی وزارتِ خارجہ نے ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے لبنان میں فوجوں کی منتقلی کے بارے میں شام کے اعلان ناکافی قرار دیا تھا۔
لبنان سے شامی افواج کی واپسی کے شام کے صدر بشر الاسد کے اعلان پر ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے امریکی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اس بات کو دہرایا تھا کہ واشنگٹن کا مطالبہ لبنان سے شام کی دستبرداری ہے۔
صدر بشر کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے حزب اختلاف کے رہنما ولید جنبلات نے کہا کہ اگرچہ شامی فوجوں کی منتقلی بھی ایک کامیابی ہے لیکن شام نے فوجوں کی واپسی کے لیے کوئی نظام الاوقات نہیں دیا۔انہوں نے بھی لبنان میں شامی موجودگی کے خلاف مزید مظاہروں کی اپیل کی ہے۔