http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 03 March, 2005, 04:12 GMT 09:12 PST

لبنان حزب اختلاف مزید مطالبات

لبنانی حزب اختلاف کے گروپوں نے ملک کی فوج اور انٹیلی جنس اداروں کے سربراہوں کے استعفے اور شام سے اس کی فوجوں کے انخلاء کے باضابطہ اعلان کا مطالبہ کیا ہے۔

حزب اختلاف کے مطابق صدر کے ساتھ نئی حکومت کی تشکیل کے لیے مذاکرات کی شرائط میں استعفوں کا مطالبہ بھی شامل ہے۔

لبنان کے شام نواز وزیراعظم عمر کرامی کےاستعفے کے بعد حزب اختلاف نے یہ مطا لبات اپنے پہلے اجلاس کے بعد پیش کیے۔

وزیراعظم عمر کرامی اور ان کی کابینہ نے عوامی احتجاج کے بعد استعفٰی دے دیا تھا۔
صدر ایمل لاہود نئی حکومت کی تشکیل کے لیے ارکان پارلیمان سے مشاورت کے پابند ہیں لیکن حزب اختلاف کے رہنماؤں نے ان سے تعاون کے لیے کڑی شرائط عائد کردی ہیں۔

پہلے قدم کے طور پر حزب اختلاف ملک کی فوج اور انٹیلی جنس اداروں کے سربراہوں کا استعفٰی چاہتی ہے۔

حزب اختلاف ان شام نواز عہدیداروں کو ملک کے سابق وزیراعظم رفیق حریری کے قتل کا ذمہ دار قرار دیتی ہے جو ایک ہفتے قبل ایک کاربم کے دھماکے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

شامی فوج اور انٹیلی جنس ادارے اپنے لبنانی اتحادیوں کے ساتھ تقریباً تین عشروں سے لبنان پر چھائے ہوئے ہیں۔ رفیق حریری کے قتل کے بعد سے شام پر دباؤ بڑھتا جارہا ہے کہ وہ لبنان سے نکل جائے۔

حزب اختلاف نے بھی شامی صدر بشارالاسد سے نہ صرف فوج کے انخلاء بلکہ اس کے نظام الاوقات کے باضابطہ اعلان کا مطالبہ کیا ہے۔ ساتھ ہی حزب اختلاف اس معاملے پر وسیع تر اتفاق رائے کے لیے بھی کوشاں ہے۔

حزب اختلاف کا ایک وفد طاقتور حزب اللہ تحریک کے قائد شیخ حسن نصراللہ سے بھی ملا ہے جن کے شام سے قریبی روابط ہیں۔ حزب اختلاف کے رہنماؤں کے مطابق وہ لبنان کو بچانے کے لیے تمام ہی جماعتوں سے مل گفتگو کررہے ہیں۔ تاہم انہوں نے تردید کی کہ حزب اختلاف نے حزب اللہ سے شام کے ساتھ ثالثی کرانے کو کہا ہے۔