Wednesday, 02 March, 2005, 10:03 GMT 15:03 PST
عراق کے دارالحکومت بغداد میں مسلح افراد نے ایک جج اور ان کے ایک رشہ دار کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا ہے۔
مقتول جج کا نام براوِز محمود مروان بتایا گیا ہے مسٹر محمود اور ان کے رشتہ دار دونوں ہی اُس خصوصی ٹرائبیونل کے رکن تھے جو معزول صدر صدام حسین اور ان کے قریبی ساتھیوں پر مقدمہ چلانے کی تیاری کر رہا ہے۔
دونوں افراد کو ان کے گھر کے باہر گولی ماری گئی۔
عراق میں پہلے بھی کئی جج مزاحمت کاروں کا نشانہ بن چکے ہیں تاہم پہلی بار خصوصی ٹرائبیول کے کسی رکن کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
حفاظت کے پیشِ نظر اس ٹرائبیول اور استغاثہ میں شامل ارکان کے نام ظاہر نہیں کیے گئے ہیں۔
ادھر بغداد ہی میں ایک فوجی اڈے کے قریب خود کش کار بم کے حملے میں کم سے کم چھ فوجی ہلاک اور 20 زخمی ہوئے ہیں۔ اس دھماکے میں ہلاک ہو نے والوں کی تعداد بڑھنے کا خدشہ ہے۔
دو دن پہلے ہِلّہ شہر میں ایک کار بم دھماکے میں ایک سو پچیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
مزاحمت کار ہر اس شخص کو نشانہ بناتے ہیں جو امریکی حمایت والے حکام سے کسی نے کسی طرح وابستہ ہو یا پھر وہ لوگ جو سرکاری نوکری حاصل کرنا چاہتے ہوں۔
خصوصی ٹرائبیونل کے جج کی ہلاکت سے ایک روز قبل ہی ٹرائبیونل نے اپنی پہلی تحقیقاتی رپورٹ مکمل کر کے صدام حسین کے سوتیلے بھائی پر جنوبی عراق میں اجتماعی ہلاکتوں کے الزام میں مقدمہ چلانے کی تجویز دی تھی۔
توقع ہے کہ عراق کے کئی سابق اہم افسران پر مقدمہ چلایا جائے گا۔